تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 77 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 77

70 72 بجے صبح امام کو ایک تار ملا کہ مسٹر جارڈن ( جو جدہ میں برٹش کونسل ہیں اور شہزادہ کے ہمرکاب وہاں سے آئے تھے)۔”مسٹر درد سے 26 ستمبر اتوار کو 9 بجے صبح ہوٹل میں ملنا چاہتے ہیں۔“ - مولوی درد صاحب نے فوراً ہائڈ پارک میں ٹیلیفون کیا۔کہ 9بجے کا وقت تو گزر چکا۔اب 10 بجے ہیں۔کیا مسٹر جارڈن (Mr۔Jordan) مل سکتے ہیں۔ہوٹل سے جواب ملا کہ مسٹر جارڈن موصوف مع دیگر رفقا کے ابھی ہوٹل سے باہر تشریف لے گئے ہیں۔اس پر مولوی درد صاحب نے مسٹر بیر (Mr۔Bayor) صاحب کو ٹیلیفون کیا (جو سرکاری محکمہ مہمان نوازی کے افسر ہیں اور جنہوں نے مسٹر جارڈن کے مشورے سے استقبالیہ دعوت اور تقریب افتتاح کی تاریخیں مقرر کی تھیں۔مسٹر بیر صاحب نے جواب دیا ” کہ آپ کچھ تر ڈد نہ فرمائیں۔بلکہ انتظام ہر طرح درست رکھیں مگر ساتھ یہ بھی کہا۔کہ فارن آفس (Foreign Office) کی رائے ہے کہ دعوت استقبالیہ 29 ستمبر کو نہیں ہونی چاہئے تھی۔مگر پھر اپنی طرف سے یقین دلایا کہ یہ کوئی اہم بات نہیں ہے۔اور ایک خواہش سے زیادہ اس کی وقعت نہیں۔اس گفتگو سے قدرتی طور پر مولوی درد صاحب کو ایک گونہ تر ڈد ہوا۔اسی رات 9 بجے پھر امام نے ہائڈ پارک ہوٹل میں مسٹر جارڈن کو ٹیلیفون کیا جس کے جواب میں صاحب موصوف نے کہا۔اب ہر گز 29 ستمبر کو شہزادہ کی دعوت نہ کریں۔کیونکہ اسی دن دن کا کھانا شہزادہ کو فارن آفس کی طرف سے دیا جائے گا۔امام نے کہا سرکاری کھانا دن کا کھانا ہے۔اور ہماری دعوت رات کی ہے اور پہلے سے سب انتظام مشورہ سے قرار پاچکا ہے۔اور دعوتی رفعے تمام عمائد کو بھیج دیے گئے ہیں۔اگر اس کو ملتوی کر دیا جائے۔تو بہت نامناسب اور تکلیف دہ امر ہو گا۔لیکن مسٹر جارڈن اپنی رائے پر قائم رہے