تواریخ مسجد فضل لندن — Page 62
55 ایک مسجد جولنڈن میں پہلی مسجد ہو گی۔ساؤتھ فیلڈز میں تعمیر کی جائے گی۔جس کا مینارہ ستر فٹ (Feet (70) بلند ہو گا۔جہاں سے ایک مؤذن مومنوں کے لئے نماز کے وقت کا اعلان کرے گا۔سنگ بنیاد کل ایک باغیچہ میں رکھا گیا۔پھلدار درختوں میں خوشبو کا نیلا نیلا دھواں اٹھتا دکھائی دیتا تھا گیلی زمین پر قالین بچھائے گئے اور اس مجمع میں مختلف اقوام کے لوگ شامل تھے۔ہر ہولی نس خلیفہ اسیح نے جنہوں نے قرمزی رنگ کے کفووں والا گلابی رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا اور جن کے سر پر ایک بھاری سفید عمامہ تھا جن کے ہاتھ میں ایک عصا تھا جس کے سر پر آبنوس اور چاندی لگی ہوئی تھی۔اس رسم کو ادا کیا۔انہوں نے فرمایا کہ ”میں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح ثانی اور جماعت احمدیہ کا امام جس کا مرکز قادیان پنجاب۔ہندوستان ہے۔آج 20 / ربیع الاوّل 1343ھ کو خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس بیت کا سنگ بنیاد رکھتا ہوں تاکہ لنڈن میں اس کے نام کا جلال ظاہر ہو اور تاکہ اس ملک کے لوگ بھی ان برکات سے حصہ لیں جو ہمیں عطا کی گئی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ تقریب تو انسان کی اخوت اور وحدت کا ایک نشان ہے یہ ضروری نہیں ہے کہ اختلاف رائے سے تفرقہ پیدا ہو۔عرب کا مقدس نبی فرماتا ہے کہ اختلاف رائے رحمت کا ایک سر چشمہ ہے کیونکہ اس سے علم اور حکمت کی ترقی میں مدد ملتی ہے۔رواداری اور عالمی حوصلگی صرف اختلاف رائے کے مدرسہ میں سیکھی جاسکتی ہے۔ہر ہولی نس کی رائے میں وہ دن دور نہیں ہے جبکہ لوگ جنگ کے خیالات کو ترک کر دیں گے اور بھائیوں اور بہنوں کی طرح ایک ہی خالق کے بندے ہو کر اتفاق سے زندگی بسر کریں گے۔