تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 45 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 45

41 چند آدمیوں میں ادا ہو گی۔ہمارے زیر نظر نمائش نہ تھی۔خدا تعالیٰ کی رضاء کے لئے یہ سنگِ بنیاد رکھا جانا تھا اور اس گھر کا سنگِ بنیاد جو اس کا نام بلند کرنے کے لئے دُنیا کو ایک نقطہ پر جمع کرنے کے لئے بنایا جا رہا ہے لیکن پھر بھی یہ خیال ضرور تھا کہ اس موقع پر غیر مذاہب کے لوگ آئیں تو ان کو اس طریق پر پیغام حق پہنچ جائے۔پس مندرجہ بالا اسباب نے جمع ہو کر ہمارے ایمان کو بڑھایا جب ہم نے دیکھا کہ نتیجہ خلاف توقع نکلا۔مہمانوں کی آمد: دو بجے سے ہی مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی اور مہمانوں میں مختلف حکومتوں کے نمائندے اور سفیر تھے۔لنڈن کے بعض اکابر اور پورٹ سمتھ (Portsmouth) تک کے بعض نو مسلم اور ہندوستانی بھائی غرض مختلف طبقہ اور درجہ کے لوگ اس تقریب پر جمع ہو گئے۔یہ ایک عجیب نظارہ تھا کہ احمدی سائبان کے نیچے انگریز، جاپانی، جرمن، سروین، زگوسلاف، اتھوپین، مصری، اٹالین، امریکن، ہنگرین، انڈین اور افریقن سب جمع تھے گویا مشرق مغرب کو حضرت اولوالعزم نے ایک مقام پر اکٹھا کر دیا اور مذہب کے لحاظ سے عیسائی، یہودی، زرتشتی، آزاد خیال، ہندو اور مسلمان سب تھے اور یہ معزز مجمع دوسو (200) سے زائد آدمیوں پر مشتمل تھا جن میں سے بعض کے اسماء گرامی یہ ہیں۔سر الیگزنڈر ڈریک Sir Alexander Drake سابق فنانشل کمشنر پنجاب، جن کو قادیان آنے کی بھی عزت حاصل تھی بحیثیت مہتمم بندوبست)، میئر آف وانڈز ورتھ (Wandsworth)، لیڈی بارک (Lady Bark)، مسز رینسی پین آف انڈیا آفس (Mrs۔Rancy Spain)، ڈاکٹر و خاتون