تواریخ مسجد فضل لندن — Page 131
116 مسلمانوں کے ہاتھ کی بنائی ہوئی پہلی مسجد ہو گی۔وہ کنگ میں بھی ایک مسجد ہے جس کو ایک انگریز نے بنوایا ہے۔ساؤتھ فیلڈ کی نئی مسجد بہت بڑی ہے کیونکہ اس میں 175 آدمی سما سکتے ہیں۔اس کو احمدیہ جماعت نے تعمیر کیا ہے۔اس مسجد کا سنگِ بنیاد 1924 ء میں رکھا گیا تھا۔جناب اے آر درد صاحب امام مسجد نے شاہ حجاز کو ایک نمائندہ بھیجنے کی دعوت دی جس کے جواب نے امام مسجد کو مشکور کیا کیونکہ شاہ حجاز نے اپنے لڑکے کو بھیجا ہے جو چند دنوں میں پہنچ جائے گا۔افتتاحی رسم کی ادائیگی 3 راکتو بر کو ہو گی۔مسٹر درد استقبال کے لئے پلے متھ جائیں گے۔اغلب ہے کہ افتتاح سے قبل استقبال کی جائے گی۔مسجد ایک بہت بڑی عمارت ہے جس میں ایک گنبد اور آذان کے لئے چار مینارے ہیں۔اس مسجد اور ایشیائی مسجد میں فرق یہ ہے کہ اس ملک کی آب و ہوا کو ملحوظ رکھ کر اس میں گرجا کی طرز کی کھڑکیاں رکھی گئی ہیں۔دروازہ کے دونوں جانب جوتے اُتارنے کے لئے جگہ ہے۔ایک محراب بھی ہے جس میں امام نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔مسجد کے سامنے وضو کے لئے ایک فوراہ لگا ہے۔دروازہ کے اوپر کلمہ لکھا ہوا ہے جس کو ایک انگریز نقاش نے اصلی حروف کے عکس سے لکھا ہے۔مسٹر درد نے کہا کہ تصویر کو بڑا کر کے اس کی نقل کی گئی ہے۔نقاش کی تعریف کی، کہا کہ اس کا کام اگر ایشیائی نقاش سے بہتر نہیں تو برابر ضرور ہے۔سلسلہ احمدیہ کی بنیاد حضرت میرزا غلام احمد صاحب نے 1889ء میں ڈالی۔ان کا اُصول یہ ہے کہ تمام مذاہب میں رسول آئے ہیں اور خدا کے ماننے میں سب مذاہب متفق ہیں۔دوسرے مسلمانوں کے برخلاف اُن کا عقیدہ یہ ہے کہ آسمانی علوم کا چشمہ جو کہ قرآن میں ہے ختم نہیں ہو چکا۔