تأثرات — Page 54
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 48 پلاتو، تیرہ (13) ممبران پارلیمنٹ (نیشنل اسمبلی) ، پانچ میئر حضرات، چار سابقہ وزرا، بین المذاہب کونسل کے گیارہ اراکین، ڈائریکٹر محنت و افرادی قوت، ڈائریکٹر پانی صوبہ پلاتو، چھپیں (26) بادشاہانِ کرام، وائس پریذیڈنٹ آف نیشنل براڈ کاسٹنگ بورڈ اور حکومت کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ڈپلومیٹ حضرات نے بڑی تعداد میں شمولیت کی۔مہمانوں کی طرف سے خوش آمدید اور تاثرات کا اظہار : حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ استقبالیہ میں شرکت کے لیے پہنچے تو تمام شاملین کا جوش اور جذ بہ قابل دید تھا۔اس موقع پر مختلف احباب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں خوش آمدید بھی کہا اور اپنے اپنے شعبے کے مسائل بھی آپ کے سامنے رکھے تاکہ ان کے مناسب حل اور جماعتی تعاون ان کو میسر آجائے۔گویا ہر ایک نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اپنے رُوح و بدن رکھ دیئے تا کہ یہ مسیحا ان کے جسمانی اور روحانی مسائل سے اُن کو نجات دلا سکے۔ہر کوئی اس یقین سے پر تھا کہ اگر اس دنیا میں کسی کے پاس اُس کے غم کا علاج اور دکھوں کا مداوا ہے تو وہ صرف اور صرف حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے: -1 رکھتا میں کیوں نہ رُوح و بدن اُس کے سامنے وہ یوں بھی تھا طبیب، وہ یوں بھی طبیب تھا ( عبید اللہ علیم ) چنانچہ بینن کے میئر آف لالو (Lalo) نے سب سے پہلے خطاب کرتے ہوئے خوب صورت تمہید باندھنے کے بعد جماعتی برکات اور تعاون اور خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: میں اس بابرکت محفل میں ایک سو پچاس (150) کلومیٹر کا سفر طے کر کے پہنچا ہوں اور وہ اس لیے کہ میں نے خدا کی شریعت میں یہ بات سنی ہے کہ خدا نے کہا ہے کہ اے بندے! تو جو کچھ لوگوں کے لیے کرتا ہے وہ میرے لیے کرتا ہے۔تو نے کسی بھوکے کو جو کھانا کھلایاوہ مجھے کھلایا تھا۔تو نے جو کسی نگے کو کپڑا پہنایا ہے وہ اس ننگے کو نہیں بلکہ مجھے پہنایا تھا۔2007ء میں میرا علاقہ بارشوں کی زد میں آیا اور بری طرح قحط کا شکار ہوا۔میں نے اپنے علاقہ میں اس خالق کی مخلوق کو بھوکا بھی دیکھا اور ننگا بھی۔لوگوں کو زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے دیکھ کر میں نے اپنے لوگوں کے لیے انٹر نیشنل سطح پر مدد کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹایا مگر سوائے ایک دروازے کے کسی سے جواب نہ پایا اور وہ دروازہ جماعت احمدیہ کا ہے۔اس جماعت کے سر براہ نے اسی وقت جرمنی سے ہیومینٹی فرسٹ کی ٹیم کو بھیجا