تأثرات — Page 429
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء (2) اک جوان منحنی اُٹھا اشک بار الفاظ بعزم استوار آنکھیں لبوں پر عہد راح دل نشیں بھڑائی ہوئی آواز میں یقیں غم میں بھی نمایاں عزم و ایمان و میں کروں گا عمر بھر تکمیل تیرے کام کی میں تری تبلیغ پھیلا دوں گا پر روئے زمیں કે کئے گی خدمت اسلام میں زندگی میری وقف کر دوں گا خدا کے نام پر جانِ حزیں ارادے اور اتنی شان ہمت دیکھ کر اُس گھڑی بھی محو حیرت درد ہو رہے تھے سامعیں میں ڈوبی ہوئی تقریر سن سن کر جسے لوگ روتے تھے ملائک کہہ رہے تھے آفریں ظاہر میں سے پنہاں ہے ابھی اس کی چمک تیری قسمت کا ستاره بن چکا ناز کا پالا کر نہیں سکتا جو کہا تھا (3) بار گراں لینے ماہ میں گیا لینے کو آگے ہو کا دوطفل حسیں گواه ہوا ماں باپ کوئی انکار عالم بل اس نے آخر کر دکھایا بالیقیں ذات باری کی رضا دم رہی پیش نظر ہر خلق کی پروا نہ کی خدمت چیر سینہ کوبی ނ منہ موڑا نہیں سینے پہاڑوں کے قدم اُس کے بڑھے ہوئے مجبور اعدائے لعیں 390