تأثرات — Page 350
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 13 مکرم و محترم چودھری حمید اللہ صاحب 312 مکرم محترم وکیل اعلیٰ صاحب تحریک جدید انجمن احمد یہ ربوہ اور صدر صاحب صد سالہ خلافت جو بلی کمیٹی مکرم چودھری حمید اللہ صاحب اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ ہماری سعادت ہے کہ ہم نے وہ زمانہ پایا ہے جب جماعت احمد یہ اپنی پہلی صدی مکمل کر رہی ہے اور دوسری صدی شروع ہونے والی ہے۔جماعت نے جتنی بھی ترقی کی ہے اس کی وجہ خلیفہ وقت کے ساتھ اخلاص اور محبت کا تعلق اور وفاداری اور اطاعت ہے۔یہ جو اس وقت عرض داشت حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں اخلاص اور وفاداری پر مبنی پیش کی جارہی ہے یہ بھی ہماری سعادت ہے کہ ہم آج اس موقع پر موجود ہیں۔بعد میں آنے والے کئی لوگ جب تاریخ پڑھیں گے تو اس بات کی خواہش کریں گے کہ کاش! وہ بھی اس موقع پر موجود ہوتے۔محترم شیخ مظفر احمد صاحب نے کچھ واقعات بیان کیے ہیں۔خلافت سے ٹکر لینے والوں کے اور ان کے انجام کے۔اس سلسلہ میں میں ایک بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب 1956ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے انتخاب خلافت کے لئے مجلس انتخاب خلافت قائم فرمائی تو اس کے ساتھ یہ اعلان فرمایا کہ اس طریق سے منتخب ہونے والے تیسرے، چوتھے، پانچویں اور آئندہ سب خلفا کو میں بشارت دیتا ہوں کہ اگر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی خلافت احمدیہ سے ٹکر لے گی تو وہ طاقت تباہ ہو جائے گی اور خلیفہ وقت کامیاب ہو گا اور فائز المرام ہوگا۔۔۔جماعت نے جو کچھ پایا، اللہ تعالیٰ کے جو افضال جماعت پر نازل ہوئے وہ خلافت کی مکمل اطاعت کی وجہ سے ہوئے۔اس سلسلہ میں صرف دو باتیں عرض کر کے میں اپنی گزارش ختم کرتا ہوں۔حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ خلیفہ اُستاد ہے جماعت شاگرد ہے۔جو بات خلیفہ وقت کے منہ سے نکلے اس کو عمل کے بغیر نہیں چھوڑنا۔تو ہمیں ہمیشہ اپنے کان خلیفہ وقت کی آواز پر مرتکز کرنے چاہئیں۔دوسری چیز جو میں اس وقت کے پیش نظر عرض کرنا چاہتا ہوں جس کا عرض داشت کے ساتھ تعلق ہے وہ شرائط بیعت کی دسویں شرط ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیعت کرنے والے کے متعلق فرماتے ہیں: یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض لله باقرار اطاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا۔اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ ہوگا