تأثرات — Page 344
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء چکے ہیں کہ نہیں؟ اور ہم اس خلافت کے پورے طور پر دست و بازو بننے کے قابل ہو چکے ہیں؟ یہ وہ کیفیت ہے کہ جس کیفیت میں ڈوب کر ہمیں خلافت کے سوسال پورے ہونے پر خوشی منانی چاہیے اور اپنا اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ہمارا یہ فرض ہے کہ آج اپنے ماں باپ سے بھی زیادہ پیارے امام کی خدمت میں محبت وعقیدت کے جذبات پیش کرتے ہوئے اپنی اپنی حالتوں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ یہ خوشی اس وقت ہمارے اندر پاکیزگی پیدا کر سکتی ہے۔جب ہم پوری کوشش کر کے اپنی اولاد میں آئندہ نسلوں میں وہ پاکیزگی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔“ ہیں: (2) مکرم خواجہ ظفر احمد صاحب: 306 (ماہنامہ انصار اللہ ضمیمہ جون 2008ء صفحہ نمبر 18) مکرم خواجہ ظفر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ ضلع سیالکوٹ اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ان شاء اللہ تعالیٰ کوئی دُنیا کی طاقت خلافت کے نظام کوکوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ یہ خدا کا وعدہ ہے کہ اُس نے تمام دنیا کو امن سکون اور تمام دنیا کی ضروریات کو نظام نو کے تحت عطا کرنا ہے اور ہم پھر عہد کرتے ہیں کہ ہماری جان اور مال اور ہمارے جسم کا ذرہ 66 ورہ خلافت پر شار ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔“ (ماہنامہ انصار اللہ ضمیمہ جون 2008ء صفحہ نمبر 19) 3) مکرم محمود احمد صاحب: لاہور سے مکرم محمود احمد صاحب نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا: ایک سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ خلافت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔خلافت ہماری جان ہے، خلافت ہمارا ایمان ہے۔میں تو دعا کرتا ہوں کہ ہماری نسلیں درنسلیں قیامت تک خلافت کے دامن سے وابستہ رہیں۔آج ہم سوویں سال گرہ منا رہے ہیں جب دو سوویں سال گرہ ہو تین سوویں سال گرہ ہو چار سوویں سال گرہ ہو ہماری اولاد در اولا داسی طرح خلافت سے وابستہ رہے۔آمین (ماہنامہ انصار اللہ ضمیمہ جون 2008ء۔صفحہ 20,19)