تأثرات — Page 339
301 تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء نظام جماعت بھی خلافت کو قائم کرتا ہے اس لیے اس کی پابندی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو توفیق دے کہ وہ اپنے عہد پر قائم رہے اور اللہ تعالیٰ سے قریب تر ہوتا چلا جائے۔27 مئی کو اللہ تعالیٰ نے ایک یہ خوشخبری بھی ہمیں دی۔بڑی دیر سے اٹلی (Italy) میں مشن و مسجد کے لیے کوشش ہو رہی تھی اس کے لیے جگہ نہیں مل رہی تھی۔تو اب عین 27 مئی کو کونسل نے بلا کے ایک ٹکڑہ زمین کا اس مقصد کے لیے دیا ہے۔سودا ہو گیا ہے۔اس ملک میں جہاں عیسائیت کی خلافت اب تک قائم ہے اللہ تعالیٰ نے خلافت احمدیہ کے سو سال پورے ہونے پر ایک ایسی جگہ عطا فرمائی ہے جہاں انشاء اللہ تعالی مسیح محمدی کے غلاموں کا ایک مرکز قائم ہوگا اور ایک مسجد بنے گی جہاں سے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان ہوگا۔انشاء اللہ۔“ (خطبه جمعه فرمودہ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہتعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 30 مئی 2008ء) کینیڈا میں خطاب کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ 27 مئی 2008 ء کی تقریب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : 27 مئی کو جو خلافت جوبلی منائی گئی۔لندن میں ایک بڑا فنکشن ہوا اور دنیا بھر میں بھی ہوا۔دنیا کی جماعتوں نے جہاں اور پروگرام بنائے اور ان پر عمل بھی کیا وہاں دُعاؤں اور نوافل کا بھی اجتماعی پروگرام رکھا اور دُنیا کے ہر ملک کی جماعت نے اس کا بڑا اہتمام کیا۔کینیڈا سے بھی مجھے کسی نے لکھا کہ ہم گھر سے مسجد کی طرف رات کو اڑھائی بجے نکلے۔سڑک پر جہاں عموماً مسجد تک پہنچنے میں 45 منٹ کا وقت صرف ہوتا ہے 20 منٹ میں مسجد کے قریب پہنچ گئے کیونکہ ٹریفک نہیں تھا لیکن مسجد کے قریب پہنچ کر دیکھا تو اتنی لمبی کاروں کی لائنیں تھیں کہ وہ چند سو گز کا فاصلہ طے کرتے ہوئے آدھا گھنٹہ لگ گیا اور مشکل سے نوافل کی آخری رکعتوں میں پہنچے۔پس یہ معیار جو آپ نے قائم کرنے کی کوشش کی یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ خلافت احمدیہ سے آپ کو محبت ہے۔کمزور سے کمزور احمدی کے دل میں بھی اس محبت کی ایک چنگاری ہے جس نے اُس دن اپنا اثر دکھایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ پیدا ہوئی تا کہ خلافت احمدیہ کے قیام اور استحکام کے لیے دُعائیں کریں۔پس اس چنگاری کو شعلوں میں مستقل بدلنے کی کوشش کریں اس کو کبھی ختم نہ ہونے دیں۔ان شعلوں کو آسمان تک پہنچانے کی ہر احمدی کو ایک تڑپ کے ساتھ کوشش کرنی چاہیے کہ یہی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔یہی اللہ تعالیٰ کے فیض سے فیض یاب ہونے کا ذریعہ ہے۔