تأثرات — Page 299
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء کے حقوق کی ادائیگی کی ذمہ داریاں سب بھول گئے ہیں۔ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ ہم تعلیم یافتہ اور مہذب ہیں تو دوسری طرف انسان میں رواداری کا فقدان پایا جاتا ہے۔افراد اور ممالک باہم جدائی اختیار کر رہے ہیں۔آپ نے تفصیلاً بتایا کہ اس قسم کے رُجحانات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔“ 271 الفضل انٹر نیشنل 16 تا 22 جنوری 2009ء صفحہ نمبر 2) روزنامه Mathrubhumi نے اپنی 28 نومبر 2008ء کی اشاعت میں لکھا: رواداری کے قیام کی ضرورت ہے۔“ حضرت مرزا مسرور احمد کالی کٹ : احمد یہ مسلم جماعت کے رُوحانی راہنما حضرت مرزا مسرور احمد نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے سے علم میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن دنیا میں رواداری کا فقدان بہت زیادہ ہوتا نظر آرہا ہے۔مذہبی تعصب ہی اس کا نتیجہ ہے۔دوسروں کے حقوق کو نظر انداز کرنے والا رجحان پایا جاتا ہے۔آپ Gateway ہوٹل میں منعقدہ استقبالیہ تقریب کو خطاب فرما رہے تھے۔دنیا میں عموماً حرص زیادہ پیدا ہورہا ہے۔دوسروں کے وسائل پر نظر رکھنے کا رجحان پیدا ہورہا ہے۔اس دنیا میں اس وقت ہر ایک کو دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ہر انسان کو اپنا مذہب اختیار کرنے کا حق ہے۔مذاہب کو با ہم عزت و رواداری اپنانا چاہیے۔قرآن کریم کی یہ تعلیم ہے کہ ہر قوم میں خدا نے انبیاء کو مبعوث فرمایا۔اگر کوئی خدا کا حکم نہیں مانتا تو یہ بات خدا اور اس کے درمیان معاملہ ہے۔اگر ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے عقائد ہی درست ہیں تو اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا چاہیے لیکن دوسروں پر ظلم ڈھانے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔“ الفضل انٹر نیشنل 16 تا 22 جنوری 2009ء صفحہ نمبر 2) مسجد عمرار نا کولم سمیت پانچ مساجد کا افتتاح: 29 نومبر 2008ء کو مسجد عمر ارنا کولم کی افتتاحی تقریب کے لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ روانہ ہوئے۔جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ارنا کولم پہنچے تو عشاق اپنے پیارے محبوب آقا کے دیدار کی ایک جھلک پانے کے لیے بے تاب کھڑے تھے۔ان عشاق میں مرد و زن، بچے بوڑھے سب شامل تھے۔بچوں اور بچیوں نے استقبالیہ گیت گا کر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو خوش آمدید کہا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں ہاتھ