تأثرات — Page 285
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 257 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اور آپ کے قافلہ کے لیے VVIP ویزے جاری کیے تھے اور بھارت میں دوران دورہ سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی اعلیٰ اور حساس انتظامات کیے تھے جس کی اطلاع حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو بھی ساتھ کے ساتھ بھارتی حکومت کی طرف سے دی جا رہی تھی۔دہلی ائر پورٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا والہانہ استقبال: دہلی پہنچتے ہی جہاز کے دروازہ پر حکومت ہند کی طرف سے وزارت خارجہ کے پروٹوکول آفیسر، دہلی کے وزیر اعلیٰ کی طرف سے ان کے اسسٹنٹ پروٹوکول آفیسر، جائنٹ کمشنر کسٹمز، اسٹنٹ کمشنر دہلی، پولیس کے سکیورٹی افسران، امیگریشن کے افسران، ائر پورٹ اتھارٹی کے نمائندگان اور برٹش ائر ویز سٹاف کے دوممبران نے استقبال کیا اور سرزمین بھارت پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو خوش آمدید کہا۔جماعت احمد یہ ہندوستان کی طرف سے صدر صاحب صدر انجمن احمد یہ بھارت قادیان مکرم صالح محمد اله دین صاحب، مکرم محمد انعام غوری صاحب ناظر علی قادیان، مکرم محمد نسیم خان صاحب ناظر صاحب امور عامه قادیان اور مکرم نائب ناظر امور عامہ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا استقبال کیا۔لاؤنج میں مکرم منیر احمد صاحب حافظ آبادی وکیل اعلیٰ تحریک جدید قادیان، مکرم سید تنویر احمد صاحب ناظم وقف جدید ، مکرم برہان احمد صاحب ظفر ناظر نشرواشاعت قادیان، صدر صاحب مجلس خدام الاحم یہ بھارت ،صدر صاحب مجلس انصار اللہ بھارت، قائم مقام افسر صاحب جلسہ سالانہ قادیان اور مکرم خلیل احمد صاحب مع اہلیہ نمائندہ صدرانجمن احمدیہ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو خوش آمدید کہا۔اسی طرح جماعت سے عقیدت رکھنے والے کئی ایک غیر مسلم احباب بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو خوش آمدید کہنے کے لیے وہاں پہنچے ہوئے تھے۔مسجد احمد یہ دہلی میں ورود مسعود : ائر پورٹ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا قافلہ پولیس کے Escort میں احمدیہ مسجد بیت الہادی دہلی کے لیے روانہ ہوا۔جہاں جماعت احمد یہ دہلی کے احباب و خواتین، بچوں اور بوڑھوں نے اپنے پیارے آقا کا والہانہ استقبال کیا۔اس موقع پر احباب جماعت نے فلک شگاف نعرہ ہائے تکبیر بلند کیے۔بچوں نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔مسجد بیت الہادی کو رنگ برنگی جھنڈیوں اور بینرز سے سجایا گیا تھا۔بیرونی گیٹ پر ایک محرابی دروازہ بنایا گیا تھا جس کے ایک طرف اَهْلًا وَّ سَهْلًا وَّ مَرْحَبًا اور دوسری طرف إِنِّي مَعَكَ يَا مَسْرُورُ لکھا ہوا تھا۔مسجد بیت الہادی برقی قمقموں کے ساتھ جگ مگ جگ مگ کر رہی تھی۔