تأثرات

by Other Authors

Page 243 of 539

تأثرات — Page 243

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء بے یارو مددگار نہیں چھوڑے جاؤ گے بلکہ خدا تعالیٰ خلافت کے ذریعہ تمہیں دوبارہ تھام لے گا۔یہ خوش خبری دی کہ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام ہی تمہارے لیے چن لیا ہے تو اس پر تمہیں قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ اپنے انعامات سے نواز نے کے لیے خلافت کے ذریعہ ہی ں تمہیں تمکنت دین بھی عطا کرے گا اور انعامات سے بھی نوازے گا۔خوف کے حالات جب بھی پیدا ہوں گے اجتماعی طور پر یا انفرادی طور پر تو خلیفہ وقت اور مومنوں کی دعاؤں سے خدا تعالیٰ تسکین کے سامان پیدا فرما دے گا۔یہ میرا بھی تجربہ ہے پہلے کا اور روزانہ میں ڈاک میں ایسے خط پڑھتا ہوں کہ ذاتی یا جماعتی جب بھی کوئی پریشانی ظاہر ہوتی ہے جماعت کے افراد خود بھی دعا کرتے ہیں اور خلیفہ وقت کو بھی لکھتے ہیں اور وہ پریشانیاں سب دُور ہو جاتی ہیں۔اس اکائی کی وجہ سے خدا تعالیٰ ایسے ایسے معجزات دکھا رہا ہوتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔یہاں تک کہ غیر بھی اعتراف کرتے ہیں کہ یقیناً خدا تعالیٰ تمہارے اور تمہارے خلیفہ کے ساتھ ہے جو ایسے معجزات ہوئے ہیں لیکن دنیا کا خوف، اُن کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے اور قبول حق سے روکتا ہے۔۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت کا نظام ہمیشہ رہنا تھا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے نظام خلافت کے وعدے کے ساتھ عبادتوں، نمازوں اور مالی قربانیوں کو رکھ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اس نظام کی حفاظت نمازوں کے قیام اور مالی قربانیوں سے ہوگی۔اس زمانے میں جب مادہ پرستی ہو گی یعنی آج کل کے زمانے میں اور دنیا ہوا و ہوس کی طرف جا رہی ہوگی خدا تعالیٰ کی طرف نظر رکھیں اور نظام جماعت کو چلانے اور بندوں کے حقوق کی ادئیگی کے لیے ہر صاحب حیثیت کو مالی قربانی کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ہر احمدی کو ہر مومن کو مالی قربانیوں کی طرف توجہ دینی ہوگی اور یہ ہوگا تبھی تم رسول کی اطاعت کا حق بھی ادا کر سکو گے اور خلافت کے انعام سے فیض اٹھاؤ گے اور یہ بات پھر مؤمنین کو خدا تعالیٰ کے رحم کی چادر میں لپیٹ لے گی۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی انعامات سے خدا تعالیٰ نوازتا چلا جائے گا۔اللہ کرے کہ افراد جماعت میں یہ روح ہمیشہ قائم رہے۔“ 218 (الفضل انٹر نیشنل 21 تا27 نومبر 2008ء۔صفحہ نمبر 9,10) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی تاریخ اور مخالفین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ” جماعت احمدیہ کی تاریخ نے یہی بتایا ہے کہ جماعت کے خلاف جو بھی فرعون اٹھا اللہ تعالیٰ نے اسے اس انعام کی برکت کی وجہ سے جو خلافت کے رنگ میں اللہ تعالیٰ نے