تأثرات — Page 121
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء دائمی خلافت علی منہاج نبوت اس مسیح کے ماننے والوں کے ساتھ وابستہ ہوچکی ہے جو ہر خوف میں انہیں امن کی نوید دیتی چلی جائے گی اور یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔ایسی تقدیر جوائل ہے۔یہ حقیقی مومنوں کا مقدر ہے۔یہ چند او باش یا چند کم ظرف جو اپنے زعم میں بڑا علم رکھنے والے لوگ ہیں وہ اس تقدیر کو نہیں بدل سکتے۔“ 111 الفضل انٹرنیشنل۔خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی نمبر 25 جولائی تا 7 اگست 2008ءصفحہ 4) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطاب میں مختصر لیکن جامع انداز میں خلافت احمدیہ کے چاروں ادوار کا ذکر جلالی رنگ میں فرمایا اور ان ادوار میں ہونے والی ترقیات کا جائزہ دنیا کے سامنے رکھا۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جماعت احمد یہ خلافت کی برکات سے ہر زمانہ میں تازہ بہ تازہ اور نو بہ نو پھل پانے والی جماعت ہے اور خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا ایک پودا ہے جو اب تناور ہو چکا ہے۔یہاں پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا بھی ذکر فرمایا جو قیام خلافت کی باتیں کرتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ کام انسانوں کے بس کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو خلافت کا قیام عمل میں لاسکتی ہے۔چنانچہ قیام خلافت کی باتیں کرنے والوں اور دشمنانِ احمدیت کو بڑے جلال کے ساتھ قبول احمدیت کی دعوت دیتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے دشمنانِ احمدیت ! میں تمہیں دوٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر تم خلافت کے قیام میں نیک نیت ہو تو آؤ اور مسیح محمدی کی غلامی قبول کرتے ہوئے اُس کی خلافت کے جاری دائمی نظام کا حصہ بن جاؤ۔ورنہ تم کوششیں کرتے کرتے مر جاؤ گے اور خلافت قائم نہیں کر سکو گے، تمہاری نسلیں بھی اگر تمہاری ڈگر پر چلتی رہیں تو وہ بھی کسی خلافت کو قائم نہیں کرسکیں گی۔قیامت تک تمہاری نسل در نسل یہ کوشش جاری رکھے تب بھی کامیاب نہیں ہو سکے گی۔خدا کا خوف کرو اور خدا سے ٹکر نہ لو اور اپنی اور اپنی نسلوں کی بقا کے سامان کرنے کی کوشش کرو۔“ الفضل انٹرنیشنل۔خلافت احمد یہ صد سالہ جو بلی نمبر 25 جولائی تا 7 اگست 2008ء صفحہ 12) پھر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت احمدیہ کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا: یہ دور جس میں خلافت خامسہ کے ساتھ خلافت کی نئی صدی میں ہم داخل ہو رہے ہیں انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت کی ترقی اور فتوحات کا دور ہے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے ایسے باب کھلے ہیں اور کھل رہے ہیں کہ ہر آنے والا دن جماعت کی فتوحات کے دن قریب دکھا رہا ہے۔میں تو جب اپنا جائزہ لیتا ہوں تو شرم سار ہوتا ہوں۔میں تو ایک عاجز ، ناکارہ ، نااہل، پر معصیت انسان ہوں۔مجھے نہیں پتہ کہ خدا تعالیٰ کی مجھے اس مقام پر فائز کرنے کی کیا حکمت تھی لیکن یہ میں علی وجہ البصیرت کہتا