تصدیق براھین احمدیہ — Page 36
تصدیق براہین احمدیہ ۳۶ تمام ملک کے رؤساء امراء اور بت پرستی کی عادی قو میں مخالفت پر کھڑی ہو گئیں اور سخت سخت ایذا ئیں دینی شروع کر دیں جس قدر موحد دیندار جناب رسالت مآب کے ساتھ ہوئے ان سب کو ملک چھوڑ چھاڑ ہجرت کرنی پڑی اور جبش کو چل دیئے۔آخر نوبت با بیجا رسید کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ چھوڑ مدینے چل بسے۔بت پرستوں نے وہاں بھی چین نہ لینے دیا اور استیصال کے در پے ہو گئے تب قرآن کریم میں حکم ہوا کہ جب مشرکوں نے اسلام کا استیصال چاہا تو اہل اسلام کو بھی اپنے تحفظ پر کمر باندھنی چاہیئے۔قَاتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرة : ١٩١) اور کسی آئندہ زمانہ میں اعتراضات کو دفع کرنے کی خاطر قرآن کریم نے صریح طور پر مقاتلہ کی وجہ بیان فرمائی ہے جہاں فرمایا۔أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمُ بدَءُ وُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ (التوبة: ۱۳) آخر الہی نصرت شامل اسلام اور اہل اسلام ہوئی کہ صاحب اسلام ہی غالب رہے۔اور آپ کے دشمنوں کی ایک نہ چلی اور آپ کی تمام پیشین گویاں فتح و نصرت کی پوری ہونے لگیں اس نعمت کا بیان آیت ذیل میں دیکھو۔وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَفَكُمُ النَّاسُ فَأُونَكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (الانفال: ۲۷) لے اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی مت کرنا اللہ زیادتی کرنے والوں کو پیار نہیں کرتا۔سے تم کیوں نہیں لڑتے ایسے لوگوں سے جنہوں نے تو ڑ دیئے عہد اور قسمیں اور فکر میں رہے کہ رسول کو نکال دیں۔اور انہوں نے تم سے پہلے چھیڑ کی۔سے اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اور اس سرزمین ( مکہ ) میں ناچیز سمجھے جاتے تھے تمہیں ڈر تھا کہ لوگ تمہیں اچک کر لے جائیں گے ایسے حال میں تم کو خدا نے ) جگہ دی اور اپنی نصرت سے تمہاری تائید کی اور عمدہ چیزیں مرحمت فرما ئیں تا کہ تم شکر کرو۔