تصدیق براھین احمدیہ — Page 31
تصدیق براہین احمدیہ ۳۱ برائی کا پیرو کیا آریہ اور سریشٹ ہوسکتا ہے؟ کیا آپ کی کامل کتاب یہ چال سکھلاتی ہے جو آپ نے تکذیب میں برتی ہے؟ قرآنی طرز مباحثات میں جو خوبی ہے کچھ تو آگے بیان کر چکا ہوں اور اور گزارش کرتا ہوں۔قرآن کریم منادی ، مناظرات اور جدال کے وقت حکم کرتا ہے۔ادْعُ إِلَى سَبِيْلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (النحل: ١٣٦) ہر ایک سلیم الفطرت ، دنیا کے معاملات کا واقف خوب جانتا ہے کہ بعض لوگ صبر سے کام لے سکتے اور یہ بھی کہ بعض اوقات چشم پوشی ، صبر، درگز ر نقصان عظیم کا موجب ہوتی ہے۔چور، باغی اور راستہ لوٹنے والے کو اگر سزا نہ دی جاوے اور صرف رحم ہی اس پر کیا جاوے تو کتنا نقصان ہوتا ہے۔فطری قویٰ میں انتقامی طاقت بھی سلیم الفطرت انسان کے ساتھ لازمی ہے۔پھر اگر کوئی قوت انتقام کو ہی کام میں لاوے اور مقابلہ ہی چاہے تو اسے بھی قرآن کس طرح نیک روی کی تعلیم کرتا ہے اور کس طرح صبر اور نرمی کی ترغیب دیتا ہے۔وَان عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَ لَبِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصُّبِرِينَ - وَاصْبِرُ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللهِ وَلَا تَحْزَنُ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ (النحل : ۱۲۷تا۱۲۹) فائدہ۔قرآن کی تعلیم سبحان اللہ کس حکیمانہ طرز کی ہے اور کیوں نہ ہو؟ عزیز حکیم کی لے اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھے وعظ سے ( لوگوں کو ) بلا اور ان سے پسندیدہ طرز سے مباحثہ کر تیرا رب انہیں بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہک گئے اور وہ راہ پانے والوں کو بھی جانتا ہے۔ے اور اگر تم سزا دو تو اتنی جتنی تمہیں دی گئی ہے اور اگر تم صبر کرو تو صابروں کے حق میں تو وہ بہت ہی بھلا ہے۔اور تو (اے محمد ) صبر کر اور تجھے صبر دینا اللہ کا کام ہے اور ان پر غمگین نہ ہو اور ان کی بدسگالیوں سے ملول نہ ہو۔جان لے کہ اللہ ڈرنے والوں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔