تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 179 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 179

تصدیق براہین احمدیہ ۱۷۹ مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفُوتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ (الملك : ٤) اور فرمایاتٌ مَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا (ص: ۲۸) خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ (الانعام: ۷۴) پر ایک جملہ تمام ہو گیا۔دیکھو۔بالحق لفظ کے آگے طایک نشان ہے جسے انگریزی میں فل سٹاپ کہتے ہیں اور عربی میں مطلق۔یہ حرف اس بات کا نشان ہے اس کے پہلے جو جملہ مذکور ہوا وہ تمام ہو چکا اور اس کے بعد کا جملہ علیحدہ جملہ ہے اور وہ یہ ہے۔وَيَوْمَ يَقُولُ كُنْ فَيَكُونُ (الانعام: ۷۴)۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ حشر والے ہنگامہ کی نسبت حکم دے گا کہ گن یعنی ہو جا۔فَيَكُونُ جس کے معنی یہ ہیں پس وہ ہنگامہ (حشر کا ) ہو پڑے گا یہی مضمون بعینہ اور زیادہ وضاحت سے دوسری جگہ موجود ہے وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ اَقْرَبُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (النحل: ۷۸)۔غرض ( سِتَّةِ أَيَّاءِ ( یعنی چھ دن میں زمین اور آسمان کی پیدائش ہوئی اور گن سے آنا فانا محشر کا ہنگامہ برپا ہوگا۔دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ قرآن خبر دیتا ہے وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَوتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَ مَا مَسَّنَا مِنْ تُغُوبٍ (ق:۳۹) اور ایک اور جگہ فرمایا ہے۔اَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ (قَ:۱۲) ایک جگہ آسمان وزمین کی حفاظت کی نسبت فرمایا ہے۔وَلَا يَوْدُهُ حِفْظُهُمَا (البقرة: ۲۵۲) غرض حیرانی اور سرگردانی کا عیب لگانا جناب باری تعالیٰ کی نسبت یہ مادہ پرست طبائع کا اختراع ہے اسلام تو رحمن کی پیدائش میں کوئی تفاوت نہ دیکھے گا تواپنی آنکھ کو پھیرا تو کیا تجھے کوئی نقص نظر آتا ہے۔ے ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا۔سے اور بے شک ہم نے ہی آسمانوں اور زمینوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا اور کسی قسم کی تکلیف نے ہمیں نہیں چھوا۔ہ کیا ہم پہلی پیدائش سے تھک گئے ہیں۔نہیں یہ لوگ نئی پیدائش سے شبہ میں ہیں۔