تصدیق براھین احمدیہ — Page 131
تصدیق براہین احمدیہ ۱۳۱ غالب طاقت نے یہ تفرقہ کر دیا۔وہ معدوم نہیں بلکہ وہ موجود اور اس قابل ہے کہ اس کی نسبت کہیں سُبْحَنَ اللهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (الروم: ۱۹،۱۸) اور انسانی شخص کے اعراض مفارقہ میں سونا اور جاگنا، حرکت، سکون، کمانا وغیرہ وغیرہ ہیں جن کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔وَمِنْ أَيْتِهِ مَنَامُكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُكُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۖ إِنَّ فِي ذَلِكَ لايت لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ (الروم: (۲۴) اب دلائل انفسی کے بعد آفاقی دلائل سنئے ، کس ترتیب سے یہ بیان نباہا ہے وَ مِنْ أَيته يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءَ فَيُحْيِ بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (الروم: ۲۵) و من اليَّة أَنْ تَقُومَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ (الروم: ٢٦) مکذب براہین نے جو دلیل ثبوت ہستی صانع پر قرآن کریم سے بیان کی ہے وہ ایسی ہے جیسے کوئی سورج کے محیط پر حرارت مرکز ارض کو دلیل ٹھہر اوے۔وَهَلْ أَنكَ حَدِيثُ مُوسَى إِذْ رَا نَارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي أَنَسْتُ نَارًا لعَلَّى اتِيْكُمْ مِنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى فَلَمَّا أَتْهَا نُودِيَ يُمُوسَى اِنّى اَنَا رَبُّكَ (طه: ۱۰ تا ۱۳) ے اور اس کے نشانوں سے ہے تمہارا رات کو سونا اور دن کو اس کے فضل کی تلاش کرنا یقیناً اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لئے۔ے اور اس کے نشانوں سے ہے کہ بیم و امید کی خاطر تمہیں بجلی دکھاتا ہے اور بادل سے پانی اتارتا ہے پھر اس سے زمین کو مرجانے کے پیچھے زندہ کرتا ہے یقیناً اس میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ے اور اس کے نشانوں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے امر سے قائم ہیں پھر جب تم کو ایک ہی پرکار سے پکارے گا اچانک تم زمین سے نکل پڑو گے۔ہے۔کیا موسیٰ کی بات تجھے پہنچی جب اس نے آگ دیکھی پس اپنے اہل کو کہا ٹھہر جاؤ میں نے آگ دیکھی ہے تو کہ میں وہاں سے انگاری لے آؤں یا آگ پر کوئی راہ بتانے والا مجھے مل جاوے۔پس جب اس کے پاس آیا پکارا گیا۔اے موسیٰ یقینا میں تیرا رب ہوں۔