ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات — Page 26
۲۶ ان کی ترقیات غیر متناہی ہوں گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اتمم لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيره التحريم آیت 9) یعنی جو لوگ دنیا میں ایمان کا نور رکھتے ہیں ان کا نور قیامت کو اُن کے آگے اور اُن کے داہنی طرف دوڑتا ہو گا وہ ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ اسے خدا ہمارے نور کو کمال تک پہنچا اور اپنی مغفرت کے اندر ہمیں لے لے۔تو ہر چیز پر قادر ہے۔جنتیوں کا اپنے نور کو کمال تک پہنچنے کے لیے دعاؤں میں مصروف رہنا اشارہ کرتا ہے کہ اہل جنت محتم دُعا بن جائیں گے اور ان کی خوشیوں اور مسترتوں کا سب راز دعا ہی میں پنہاں ہو گا جو اُن کی دائمی زندگی کا اصل مقصد اور تخلیق انسانی کی غرض و غایت ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُ دُنه (الذریت آیت ۵۷) الغرض حضرت مصلح موعوض کا مندرجہ بالا ترجمہ دوسری آیات قرآن مجید کے عین مطابق ہے۔دوسرے تراجم ) : " بے شک جنت والے آج دل کے بہلاؤؤں میں چین کرتے ہیں۔" (مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی قادری چشتی) اہل جنت بے شک اس دن اپنے مشغلوں میں خوش دل ہونگے۔ر مولانا شاہ اشرف علی صاحب تھانوی قادری چشتی و مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی )