ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات — Page 10
1۔حفوظ ہے۔سنت و حدیث اس پر قاضی نہیں بلکہ وہ ان سب کا پیشوا ہے۔وہ مکمل کتاب نہیں مفصل کتاب ہے جس کی سطر سطر ایک اعجازی، ابلغ ، ارفع اور محکم نظام روحانی سے مربوط ہے۔اس میں کوئی قصہ یا داستان موجود نہیں اور بظا ہر جو واقعات اس میں درج ہیں ان کے پس پردہ غیبی خبروں کا ایک غیر متناہی سلسلہ موجود ہے۔آپ نے اپنے روحانی تجربات و مشاہدات کی بناء پر نیچری خیالات کی دھجیاں بکھیر دیں اور ثابت کیا کہ قرآن مجید اول سے آخر یک کلام اللہ ہے۔مدتوں سے علمائے ظواہر کا ایک طبقہ حکیم المل نے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی کی ذات سے اس لیے پر خاش رکھت اور ان کو رمعاذ اللہ ) کافر قرار دیتا تھا کہ انہوں نے فارسی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ کرنے کی بدعت کیوں رائج کی مگر حضرت مهدی موعود نے بحیثیت حکم عدل فیصلہ فرمایا کہ قرآن مجید کا ترجمہ جاننا ضروری ہے یہ نیز آپ نے اپنے قلم مبارک سے صد با قرآنی آیات کا نهایت روال ، شستہ اور دل آویز با محاورہ ترجمہ کیا اور قرآن مجید کے ٹھیک ٹھیک مفہوم کو واضح کرنے کے لیے زبان اردو کے برجستہ اور بر محمل الفاظ اور محاورے استعمال کیے۔آپ کا ترجمہ نہ صرف نہایت واضح ، غایت درجہ لطیف اور شاندار حقائق و معارف سے عبریز ہے بلکہ اپنے اندر القائی رنگ رکھتا ہے اور اسی وجہ سے اپنی ذات میں بھی مستقل برکات کا حامل ہے۔اه حضرت مهدی موعود نے شاہ صاحب کو اپنی کتاب اتمام الحجہ میں اسی خطاب سے یاد فرمایا ہے ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد پنجم من الناشر الشركة الاسلامیہ ربوہ۔