تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 69 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 69

تاریخ احمدیت۔جلد 28 69 سال 1972ء جواب دیا۔معزز جج صاحبان ) جسٹس محمد منیر اور ایم آر کیانی) نے اپنی رپورٹ میں یہ تمام جوابات علماء ہی کے الفاظ میں درج کرنے کے بعد لکھا:۔ان متعد د تعریفوں کو جو علماء نے پیش کی ہیں پیش نظر رکھ کر کیا ہماری طرف سے کسی تبصرے کی ضرورت ہے؟ بجز اس کے کہ دین کے دو عالم بھی اس بنیادی امر پر متفق نہیں ہیں اگر ہم اپنی طرف سے مسلم کی کوئی تعریف کر دیں جیسے ہر عالم دین نے کی ہے اور وہ تعریف ان تعریفوں سے مختلف ہو جو دوسروں نے پیش کی ہیں تو ہم کو متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا اور اگر ہم علماء میں سے کسی ایک کی تعریف کو اختیار کر لیں تو ہم اُس عالم کے نزدیک تو مسلمان رہیں گے لیکن دوسرے تمام علماء کی تعریف کے رُو سے کافر ہو جائیں گئے۔56 سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان کی پہلی منتخب اسمبلی کے پہلے اجلاس (بتاریخ ۱۴ را پریل ۱۹۷۲ء) میں ایک خاص طبقہ کی طرف سے سوال اٹھایا گیا کہ عبوری آئین میں مسلمان کی تعریف کیوں نہیں کی گئی۔اس پر جناب کوثر نیازی صاحب وزیر اطلاعات و نشریات نے جواب دیا کہ اس مسئلہ پر علماء کے درمیان شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ۱۹۵۶ء کے آئین میں بھی جس کے دن رات گن گائے جاتے ہیں مسلمان کی کوئی تعریف پیش نہیں کی گئی تھی۔مولانا نے بتایا کہ اسلام ایک مذہب ہے اور اسے مختلف فرقوں میں تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے۔علماء سوء وہ لوگ ہیں جو اسلام میں تفرقہ پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے اس امر پر اظہار افسوس کیا کہ علماء نے خود کو مختلف گروپوں میں بانٹ لیا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمان کی تعریف پر بھی متفق نہیں ہو سکتے اور مختلف گروپوں کی طرف سے اسلامی نظریات و اصطلاحات کی مختلف تشریحات کی جاتی ہیں۔انہوں نے علماء کو چیلنج کیا کہ وہ مسلمان کی کوئی متفقہ تعریف پیش کریں جسے حکومت فورا تسلیم کر لے گی۔57 اسی طرح مدیر چٹان جناب شورش کا شمیری صاحب نے مسلمان کی تعریف کے زیر عنوان ایک نوٹ لکھا جس میں مسلمان کی تعریف کے لئے قرآن کریم اور احادیث نبوی سے مختلف حوالے دیئے لیکن حیرت ہے کہ جب جماعت احمدیہ کے خلاف فیصلہ کیا گیا تو بیک جنبش قلم ان تمام حوالوں کو نظر انداز کر کے وہ تعریف کی گئی جس کا ذکر قرآن وحدیث میں کہیں نہیں پایا جاتا۔شورش صاحب نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ صدر بھٹو کے وزیر اطلاعات قومی اسمبلی میں فرماتے