تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 399
تاریخ احمدیت۔جلد 28 399 سال 1972ء اور تربیتی سلسلہ جاری رہا۔عرصہ زیر رپورٹ میں ہر جگہ جماعتوں میں قیام کے دوران درس تفسیر صغیر، درس احادیث اور درس کتب و ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام دیا جاتا رہا اور حسب موقعہ ضروری مسائل بیان کئے گئے جو احباب کے لئے ازدیاد علم و ایمان کا باعث ہوئے۔بعض احباب کو سبقاً سبقاً بھی اسلامی کتب پڑھانے کا موقعہ ملا۔مولانا غلام احمد فرخ صاحب نے اسی رپورٹ میں یہ بھی تحریر فرمایا کہ نفی میں ہر جماعت میں لجنہ اماءاللہ کا نظام بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم ہے اور لجنہ کی اراکین نے اپنے فرائض انجام دیئے۔ان کے الگ اجلاس ہوئے۔جن میں دو مبلغین نے حسب موقع تقاریر کیں اور احمدی مستورات کے فرائض، نماز کی پابندی اور تربیت اولا دوغیرہ مضامین بیان کئے۔نیز مرکزی لجنہ سے آمدہ ہدایات پر عمل کروایا گیا۔اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۲۲ /افراد نے بیعت کی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شامل ہوئے۔95 کینیا اس مشن کے انچارج مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق تھے جن کا ہیڈ کوارٹر نیروبی تھا۔علاوہ ازیں کسوموں میں مولوی محمد عیسی صاحب اور ممباسہ میں مولوی منیر الدین احمد صاحب اور (دسمبر ۱۹۷۲ء سے ) مولوی عبدالحفیظ صاحب کھوکھر دینی خدمات بجالاتے رہے۔مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق نے اخبار احمد یہ نیروبی مورخہ اپریل ۱۹۷۲ء میں مشن کی دینی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔”خاکسار کو متعدد بار کنیاٹا کالج جا کر اخبارات کی تقسیم اور طلبہ سے تبادلہ خیالات کا موقع ملا۔اس کالج کے سیکنڈری سیکشن میں بھی اس بار جانے کا موقع ملا۔طلبہ سے گفتگو ہوئی۔ایک یورپین ٹیچر نے دلچسپی سے مسیح کے واقعہ صلیب کے بارہ میں گفتگوسنی اور کہا کہ بالکل ممکن ہے اسی طرح ہی ہوا ہو جیسے آپ نے بیان کیا ہے۔پاور اینڈ لائٹنگ سکول میں بھی چند بار جانے کا موقع میسر آیا۔یہاں بھی طلبہ دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔چنانچہ ۷ رشہادت کو رات کے سوا آٹھ بجے اس سکول میں خاکسار کو اسلام کا تعارف کرانے