تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 323
تاریخ احمدیت۔جلد 28 323 سال 1972ء اندرونی طور پر کچھ محسوس کیا مثلاً وہ کہتا ہے کہ میں آدھے گھنٹے سے زیادہ ٹھیک طرح چل نہیں سکا۔اس نے سیر میں یہ محسوس کیا تو یہ بھی اسے لکھ دینا چاہیے تھا۔انسان کی بہت سی جستیں ہوتی ہیں۔حواس خمسہ کو تو آپ جانتے ہیں ان کے علاوہ بھی بعض جستیں ہوتی ہیں۔آدمی ایک چیز کا مشاہدہ کرتا ہے مثلاً آنکھ کا جو مشاہدہ ہے اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی بعض دیگر حستیں بھی ہوتی ہیں اور اسی طرح دوسرے حواس کے ساتھ کچھ اندرونی حواس بھی کام کر رہے ہوتے ہیں۔یہ فلائٹ آف امیجی نیشن یعنی تخیل کی پرواز تو نہیں ہوتی تاہم یہ ایک احساس ہوتا ہے جسے ذکر کر دینا چاہیے تھا۔ویسے سیر کے مقابلے کے قواعد بننے والے ہیں۔مجلس صحت کو متعلقہ قواعد بنانے چاہیں۔انعامات میں تو میں نے وسعت پیدا کر دی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ ہمارے اطفال سیر میں زیادہ حصہ لیں۔ان کے لئے انعام تھوڑا رکھا ہے۔شاید ایک روپیہ ہے جس کی وہ گولیاں خریدیں گے یا کوئی اور چیز لیکن ایک تہائی بچوں کو بشرطیکہ محض کھیل نہ ہو۔درمیانے درجے کا ان کا معیار ہو وہ ان کو دیں گے۔انشاء اللہ 25 تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی علمی برتری جماعت احمدیہ پاکستان کے مرکزی تعلیمی ادارہ تعلیم الاسلام کا لج ربوہ نے اس سال بھی ملک کے دوسرے کالجوں پر کئی اعتبار سے برتری حاصل کر کے متعدد قابل فخر اعزاز حاصل کئے۔مثلاً اس کے شعبہ فزکس کی پہلی ایم ایس سی کلاس کا نتیجہ سو فیصدی رہا۔اسی فیصد طلباء نے فرسٹ کلاس حاصل کی۔کالج کا نتیجہ صوبے کے دیگر تمام تعلیمی اداروں سے بشمول پنجاب یو نیورسٹی کے بہت بہتر رہا۔اخبار الفضل نے اس نتیجہ کی تفصیلی خبر یوں دی :۔یہ خبر انتہائی مسرت سے سنی جائے گی کہ شعبہ طبیعات تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے جو دس طلباء امسال ایم ایس سی کے امتحان میں بیٹھے تھے۔سب کے سب عمدہ نمبر حاصل کر کے پاس ہو گئے ہیں۔اس طرح محض خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے نتیجہ سو فیصد رہا ہے۔مزید براں دس میں سے آٹھ طلباء نے فرسٹ کلاس حاصل کی ہے۔نیز ۱۴۵ طلباء میں سے جنہوں نے امسال صوبے کے مختلف تعلیمی اداروں سے ایم ایس سی کا امتحان دیا تھا تیسری، پانچویں اور چھٹی پوزیشن ہمارے کالج کے طلباء نے