تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 153
تاریخ احمدیت۔جلد 28 153 سال 1972ء زیادہ فاصلہ پر بستے ہیں۔پس محض مرکز سے دوری اخلاص کی کمی اور ایثار و قربانی سے بے پرواہی پر منتج نہیں ہوتی بلکہ فاصلے محبت اور پیار سے اخلاص اور ایثار سے سکڑ جاتے اور زائل ہو جاتے ہیں۔جو محبت جو ایثار اور غلبہ اسلام کے لئے جو جوش میں نے مغربی افریقہ کے افریقن احمدیوں میں پایا ہے اگر ویسا ہی اخلاص اور جوش ساری دنیا کے احمدیوں میں ہو جائے آپس میں پیار کرنے لگیں بنی نوع انسان کی خدمت پر کمر بستہ ہو جائیں اور اگر اللہ تعالیٰ کے حقوق کو بھی اسی طرح ادا کریں جس طرح انہیں اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین اور وصیت کی گئی ہے تو غلبہ اسلام کی جو مہم اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جاری کی ہے اس کے اور بھی زیادہ خوشکن نتائج بہت جلدی ہماری آنکھوں کے سامنے آجائیں اور اپنی زندگیوں میں ہم غلبہ اسلام کی آخری فتح اور آخری غلبہ کے ایام اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگیں۔ہماری روح انہیں محسوس کرنے لگے اور ہماری خوشیوں کی کوئی انتہا نہ رہے کیونکہ اسی میں ہماری خوشی اور مسرت ہے۔میہ دنیا اور اس دنیا کے اموال اور دنیا کی مستر تیں اور لذتیں حقیقی نہیں۔ابدی بھی نہیں ہیں۔ابدی اور حقیقی مسرت تو اللہ تعالیٰ کے پیار میں انسان کو ملتی ہے اور اسی کی طرف رجوع کر کے اس کے پیار کو ہمیں حاصل کرنا چاہیے۔آج اس نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کر کے ہمیں یہ وعدہ دیا ہے کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس موعود عظیم روحانی فرزند کی باتوں کو سنو اور غلبہ اسلام کی جو مہم اس نے جاری کی ہے اس میں حصہ لو۔معمولی حصہ نہیں بلکہ انتہائی حصہ۔ساری دنیا کی لذتوں اور دولتوں کو بھول کر اس حقیقی لذت اور حقیقی رویت کی تلاش کرو جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔پس اگر تم حقیقی معنی میں پورے اخلاص کے ساتھ خدا کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرو گے اور توحید حقیقی پر پوری طرح قائم ہو جاؤ گے اور بے نفس محبت اسلام سے کرو گے اور قرآن کریم کی عظمت کو دلوں میں بٹھاؤ گے۔۔۔۔اور خدا کی رضا کے متلاشی رہو گے اور خدا کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ساری دنیا