تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 126 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 126

تاریخ احمدیت۔جلد 28 126 سال 1972ء یہ تحریک کی تھی کہ تحریک جدید کا چندہ سات لاکھ نوے ہزار روپے تک پہنچ جانا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔تاہم اس کی چند وجوہ ہیں۔گذشتہ چار سال میں ملک میں جو حالات گذرے ہیں جب ان کا جائزہ لیتا ہوں تو میں اپنے دل کو حمد کے جذبات سے معمور پاتا ہوں۔آپ کے خلاف میرے دل میں غصہ نہیں پیدا ہوتا۔تحریک جدید کے دفتر اول کے چونتیسویں سال یعنی ۶۸ - ۱۹۶۷ ء میں دفتر دوم اور سوم کو بھی ملا کر اندرون پاکستان تحریک جدید کا چندہ پانچ لاکھ پچاس ہزار روپے تھا۔اور اس سے اگلے سال یعنی ۶۹ - ۱۹۶۸ء میں چھ لاکھ تیس ہزار تک پہنچ گیا۔یعنی اتنی ہزار روپے کا اضافہ ہوا اور یہ بڑا خوشکن اضافہ تھا پھر اس سے اگلے سال یعنی ۷۰-۱۹۶۹ء میں یہ چندہ چھ لاکھ تیس ہزار سے بڑھ کر چھ لاکھ پینسٹھ ہزار روپے تک پہنچ گیا۔مگر اس سے اگلے سال اے۔۱۹۷۰ء میں یہ رقم چھ لاکھ پینسٹھ ہزار سے گر کر چھ لاکھ اڑتیس ہزار روپے پر آگئی کیونکہ ملک میں ہنگاموں کی وجہ سے بڑا شور مچ گیا۔جلوس اور سٹرائیکس گھیراؤ اور جلاؤ کی ایک جنونی کیفیت تھی جو قوم پر طاری ہوگئی لیکن اتنے بڑے ہنگاموں اور اس قدر جنونی کیفیت کے باوجود تحریک جدید کے چندوں میں صرف ستائیس ہزار روپے کی کمی واقع ہوئی اور میں سمجھتا ہوں یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ورنہ ملکی حالات تو بڑے دگرگوں تھے۔چنانچہ ملک میں سٹرائیکس وغیرہ کا سلسلہ ایک حد تک اب بھی جاری ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ ملکی سٹرائیکس کا تحریک جدید کے چندوں کے ساتھ کیا تعلق ہے اس کا تعلق ہمارے تاجروں کے ساتھ ہے اور اس کا تعلق ہمارے دوستوں کے ساتھ ہے جو کارخانوں میں ملازم ہیں اور اس کا تعلق ان چیزوں کے ساتھ ہے جو کارخانوں میں بنتی ہیں یا نہیں بنتیں۔ہڑتالوں کی وجہ سے جب پیداوار کم ہوگی تو ملک کی آمد بھی مجموعی طور پر کم ہو جائے گی۔پیداوار اور آمد ایک ہی چیز کی دو شکلیں اور دوز او یے ہیں۔ہم ایک کو پیداوار اور دوسرے کو آمد کہہ دیتے ہیں۔بہر حال ہنگاموں اور ہڑتالوں کی وجہ سے جہاں ملکی معیشت تباہ ہوتی ہے وہاں تحریک جدید اور جماعت کے دوسرے چندوں پر بھی اثر پڑتا ہے مگر ان غیر تسلی