تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 124 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 124

تاریخ احمدیت۔جلد 28 124 سال 1972ء فرمایا:- حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اپنے پر معارف خطاب کے آخر میں پرشوکت انداز میں ’ہمارا مستقبل بشارات کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے۔وہ چھپا ہوا ہے۔لیکن خدا کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے ہماری آنکھ اس سے زیادہ دور بین ہے جو آدم ، نوح اور موسیٰ (علیہم السلام) کے ماننے والوں کی تھی۔اگر انہوں نے غیب کی باتوں کو جو مستقبل کے متعلق تھیں حال کی باتیں سمجھا اور ان پر ایمان لائے اور ان پر یقین کیا تو ہم اس سے بھی زیادہ پختہ یقین کے ساتھ اپنے مستقبل کو مانتے ہیں۔کوئی وسوسہ اور کوئی دجل ہمارے دل کے ایمان اور ہمارے عزم میں کوئی رخنہ نہیں پیدا کر سکتا۔“ 119 حضور کا یہ ولولہ انگیز خطاب کم و بیش دو گھنٹے جاری رہا جسے ملک کے طول وعرض سے آنے والے خدام نے نہایت توجہ اور گہرے انہماک سے سنا۔اختتامی خطاب کے بعد حضور نے خدام الاحمدیہ کا عہد دہرایا اور لمبی پر سوز دعا کروائی۔جس کے ساتھ خدام الاحمدیہ کا تیسواں اجتماع بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا اطفال سے بصیرت افروز خطاب مجلس اطفال الاحمدیہ کا تیسواں سالانہ اجتماع مورخہ ۵ تا ۷ /اکتوبر بمقام ایوان محمود منعقد ہوا۔جس میں ربوہ اور دیگر ۱۱۲ مجالس کے ۱۹۷۶ نمائندگان نے شرکت کی۔مورخہ ۶ اکتوبر کو صبح ساڑھے دس بجے اطفال اپنے جھنڈے اٹھائے ہوئے خدام الاحمدیہ کے مقام اجتماع میں شامل ہوئے جہاں وہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے خطاب سے مستفیض ہوئے اور اجتماعی دعا میں شامل ہوئے۔مورخہ ۶ راکتو بر ۱۹۷۲ء کو بعد نماز مغرب سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث اجتماع میں تشریف لائے اور نصف گھنٹہ کے قریب بچوں میں تشریف فرما ر ہے۔اور احمدی بچوں سے ایک نہایت بصیرت افروز خطاب فرمایا۔جس میں حضور نے انہیں نہایت مؤثر پیرایہ میں یہ تلقین کی کہ اپنے عمل سے ثابت کرو کہ ہم نے دنیا کے دلوں میں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کرنی ہے