تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 290
تاریخ احمدیت۔جلد 27 290 سال 1971ء کوالے(Kwale) میں مقامی احمدی معلم صاحب نے مولوی محمد عیسی صاحب کی ہدایت اور نگرانی میں جلسے کا انتظام کیا اور ڈسٹرکٹ ویلفیئر آفیسر کی صدارت میں مولوی صاحب موصوف نے سواحیلی زبان میں تقریر کی جسے سامعین نے نہایت توجہ سے سنا۔بعد میں سوال و جواب کا سلسلہ بھی نہایت دلچسپ رہا۔صاحب صدر نے فرمایا کہ اس نوع کی تقریر سے غیر مذاہب والوں کو دوسروں کے خیالات سنے کا موقع ملتا ہے اور غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں۔مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق اس تقریب کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔نیروبی سے پندرہ میل کے فاصلہ پر (Sisal Estate) بنام Ruwai ہے جہاں اکثر اوقات جا کر تبلیغ کا موقعہ ملتا رہا۔اس جگہ دو چرچ ہیں خدا کے فضل سے دونوں ہی میں خاکسار کو سواحیلی میں اسلام کی حقانیت کے موضوع پر تقاریر کا موقع ملا۔خاکسار کے ساتھ مکرم کا کو ایا صاحب نے بھی تقاریر کیں۔یہ دوست مخلص احمدی ہیں جو کہ Digo قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔وزارت تعلیم میں ایجو کیشن آفیسر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ہماری تقاریر کے بعد پادری صاحب نے درخواست کی کہ حاضرین کے سوالات کے جوابات بھی دیئے جائیں۔یہ تو ہمارے لئے سنہری موقع تھا ہم نے کہا کہ ضرور سوالات پوچھئے۔چنانچہ پادری صاحب اور حاضرین نے متعدد سوالات دریافت کئے جن کے جواب بالعموم بائبل ہی سے دیئے گئے۔آخر میں پادری صاحب کی اجازت سے ہم نے تمام حاضرین کو مع پادری صاحب اپنے سواحیلی اخبارات دیئے جو انہوں نے خوشی سے قبول کئے۔آخر میں پادری صاحب نے کہا کہ آج ہم نے اسلام کے بارہ میں بہت کچھ سنا ہے ہمارے ذہنوں میں اسلام کے بارہ میں بالکل مختلف نقشہ تھا“۔107 ممباسہ ٹاؤن میں جلسہ کا انعقاد میونسپل ہال میں کیا گیا۔اس جلسہ کی اطلاع مولوی محمد عیسی صاحب نے بذریعہ ملاقات زیر تبلیغ احباب کو قبل از وقت کر دی تھی۔علاوہ ازیں بکثرت اشتہارات بھی تقسیم کئے۔مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق نے قرآن کریم کی پیشگوئیاں کے زیر عنوان ایک گھنٹہ تک نہایت مؤثر خطاب کیا۔صاحب صدر مسٹر محمد شیلو ویلفیئر آفیسر پورٹ ٹرسٹ نے اپنی صدارتی تقریر میں اس خطاب کو سراہا۔مولا نا جمیل الرحمن صاحب رفیق کینیا کے ساحلی علاقہ کا کامیاب دورہ کرنے کے بعد ے ستمبر کو