تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 116 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 116

تاریخ احمدیت۔جلد 27 116 سال 1971ء اس وقت حالات نے انتہائی شدت تو اختیار نہیں کی لیکن یہ ایسے بھی نہیں کہ ہم لا پرواہ ہو جائیں۔اس لئے ہر پاکستانی خصوصاً ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی پوری توجہ اپنی دعاؤں اور اپنی محنت کے ساتھ اور اپنی جدو جہد کے ذریعہ اور اپنے کام میں زیادہ مہارت کا مظاہرہ کر کے استحکام پاکستان کے لئے کوشاں رہے اور وہ ملک کی سلامتی اور ملک کے استحکام اور ملک کی عزت اور وقار اور احترام کی خاطر اپنی زندگی کی ہر گھڑی خرچ کر رہا ہو۔اگر حکومت کو کاروں اور موٹر گاڑیوں کی ضرورت پڑے تو خوشی سے دے دینی چاہئیں۔ابھی کاریں تو شاید لینی نہیں شروع کیں۔سنا ہے خاص قسم کی گاڑیاں لے رہے ہیں۔پس قوم اور ملک کو جن کی ضرورت ہے وہ گاڑیاں وہ لے جائیں گے اور ہمیں بشاشت کے ساتھ دے دینی چاہئیں۔ہمیں جو گاڑیاں ملیں یا جو کپڑے ملے یا جو مال و دولت ملا یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کے خزانے کبھی خالی نہیں ہوتے۔جس خدا نے پہلے دیا وہ آج بھی دے گا اور کل بھی دے گا۔پھر ہمیں خوف کس بات کا ہے اور گھبراہٹ کس بات کی ہے۔چونکہ یہ ہنگامی حالات ہیں۔ہر فرد واحد کو قوم کے استحکام اور قوم کی عزت اور وقار اور احترام کی خاطر اپنا سب کچھ اپنی استعدادوں اور دعاؤں سمیت قوم کو پیش کر دینا چاہیے اور حکومت سے پورا تعاون کرنا چاہیے۔اس لئے مشورہ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جلسہ سالانہ ملتوی کر دیا جائے۔پھر جیسا کہ ہماری دعا ہے جب یہ ہنگامی حالات ختم ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ ہمارے لئے غیر معمولی خوشیوں کے سامان پیدا کر دے تو پھر ہم خوشی کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ چھلانگیں لگاتے ہوئے اپنے جلسہ میں شامل ہو جائیں گئے۔116 التواء جلسہ سالانہ ۱۹۷۱ء کے بعد متبادل کے طور پر مرکزی عہدیداران کے پاکستان بھر کی احمدی جماعتوں کے دورہ جات ہوئے۔اس حوالہ سے بغرض معلومات مورخہ ۱۷ جنوری ۲۰۱۵ء کو محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ایم۔اے ناظر دیوان صدر انجمن احمدیہ سے رابطہ کیا گیا۔آپ نے بتایا کہ ” خاکسار بھی اس پروگرام کے مطابق سندھ کی جماعتوں کے دورہ پر گیا تھا اور صاحبزادہ