تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 359 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 359

تاریخ احمدیت۔جلد 26 359 سال 1970ء سے تقویت حاصل کی۔بہت سے عیسائی مشنوں کے بنیادی تنظیمی ڈھانچہ جس میں پیشہ ور پادریوں کا نظام،سکولوں اور طباعت خانوں کا قیام، مذہبی کتابوں کے ترجمے کا کام وغیرہ شامل ہیں، احمد یہ جماعت نے نقل کی ( یہ بات درست نہ ہے )۔ان تمام حربوں کو عیسائیت کے خلاف کوشش میں استعمال میں لایا گیا کیونکہ احمدیہ فرقہ خصوصاً عیسائی مخالف ہے۔مغربی افریقہ میں احمدیت کا ظہور جنگ عظیم کے بعد ہوا جب لیگوس اور فری ٹاؤن کے کئی نوجوان بذریعہ خط و کتابت جماعت میں شامل ہوئے۔۱۹۲۱ء میں پہلا ہندوستانی مبلغ یہاں پہنچا۔غیر رسمی عقائد کی حامل جماعت ہونے کی وجہ سے اسے خالص مسلم آبادی کے علاقوں میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔یہ جماعت جنوبی نائیجیریا، جنوبی گولڈ کوسٹ اور سیرالیون کے علاقوں تک محمد ودر ہی۔اس کا سب سے اہم کام افریقہ میں اسلامی طرز پر مغربی تعلیم کے رجحان کے سلسلہ میں کوشش کرنا ہے۔The Ahmadiyya, while still believing that the Quran is essentially untranslatable, has popularized its own English versions, and has encouraged people to think of reading the Quran in their own language, or at least in a language they can readily understand۔In East Africa, an Ahmadiyya Swahili translation appeared in 1953, followed in 1962 by an orthodox version as riposte۔ترجمہ: احمدیہ فرقہ نے ، جو بنیادی طور پر یہ خیال رکھتے ہیں کہ قرآن کا ترجمہ کرنا اصولاً ناممکن ہے، قرآن کے انگریزی ترجموں کی اشاعت کی ہے اور لوگوں کو اپنی زبان یا کم از کم ایسی زبان میں جسے وہ آسانی سے سمجھ سکیں قرآن پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔مشرقی افریقہ میں ۱۹۵۳ء میں جماعت احمدیہ کی طرف سے سواحیلی ترجمہ منظر عام پر آیا جس کے جواب میں مقلد مسلمانوں نے ۱۹۶۲ء میں اپنا ترجمہ شائع کیا۔التواء روانگی قافلہ برائے جلسہ سالانہ قادیان امسال ۱۹۷۰ء میں منظوری نہ ہونے کی بناء پر پاکستانی احمدیوں کا قافلہ جلسہ سالانہ ۱۹۷۰ء کے موقع پر نہ جاسکا۔43