تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 209
تاریخ احمدیت۔جلد 26 209 سال 1970ء طریق کے اب متروک ہونے کا ذکر فرمانے کے علاوہ بیماریوں کے علاج کے سلسلہ میں دواؤں کے استعمال میں خاص احتیاط برتنے پر زور دیا اور اس ضمن میں فرمایا کہ خود دواؤں کے ضرورت سے زیادہ استعمال کا صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔اسی تعلق میں حضور نے شہد کی مختلف اقسام اور ان کی جدا گانہ خاصیتوں کا بہت لطیف پیرائے میں ذکر فرمایا اور اس بارہ میں جدید تحقیق پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہر درخت کا نیکٹر (Nectar) اس درخت کا نچوڑ ہوتا ہے اور لکھی جب اس نیکٹر سے شہد تیار کرتی ہے تو اس شہد میں اس درخت کے خواص موجود ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر نیم کے پھولوں سے حاصل کئے ہوئے نیکٹر (رس) سے جو شہر بنتا ہے وہ بیک وقت میٹھا بھی ہوتا ہے اور نیم کی کڑواہٹ بھی اس میں ہوتی ہے۔یہ شہر بہت مصفی خون ہوتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ کہ مکھیاں پال کر سچی بوٹی کا شہد تیار کرنے کا تجربہ کرنا چاہیئے۔ہوسکتا ہے کہ یہ شہد کینسر کے علاج کے سلسلہ میں سچی بوٹی کی نسبت زیادہ مفید ثابت ہو کیونکہ نیکٹر میں جزو بدن بننے کی قدرت نے بہت صلاحیت رکھی ہے۔شہد کی صحت بخش تاثیرات کے تعلق میں حضور نے فرمایا کہ جب گزشتہ سالوں میں مجھے اصل بیماری کے طور پر نہیں بلکہ نظام ہضم کی خرابی کی وجہ سے ذیا بیطیس کی شکایت پیدا ہوئی تو ڈاکٹروں نے شہد کے استعمال سے بھی منع کیا لیکن میں برابر شہد استعمال کرتا رہا۔ڈاکٹروں سے میں نے کہا میں بدظنی نہیں کر سکتا جب خدا کہتا ہے کہ شہر میں لوگوں کے لئے شفاء رکھی گئی ہے تو میں کیوں اس کے خلاف عمل کروں۔چنانچہ میں نے شہد کا استعمال ترک نہ کیا۔دس پندرہ روز کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے شوگر کنٹرول میں آگئی اور مرض جاتا رہا۔حضور نے انسانوں پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شہد کی ایک مکھی سات سات آٹھ آٹھ دفعہ ایک پھول پر جا کر بیٹھتی ہے تب کہیں جا کر وہ خشخاش کے ایک دانہ کے برابر نیکٹر حاصل کرتی ہے۔اگر مکھی کی اس انتہائی محنت اور مشقت کے پیش نظر اسے ہم ایک مزدور تصور کریں تو ہمیں یہ باور کرنا پڑیگا کہ کم از کم دو ہزار مزدوروں کی محنت شاقہ کے نتیجہ میں ایک چمچہ شہد تیار ہوتا ہے۔یہ دو ہزار مزدور اس لئے محنت کرتے اور اس میں لگے رہتے ہیں کہ خدا کا ایک بندہ ایک چمچہ شہد پی کر اس سے فائدہ اٹھائے۔اللہ تعالیٰ کے اس فضل پر جتنی بھی اس کی حمد کی جائے کم ہے۔حق یہ ہے کہ اگر ہم دن رات بھی اس کی حمد کرتے رہیں تو کہاں حق ادا ہو سکتا ہے اس کی حمد کا۔اس لئے میں تو جب بھی شہد استعمال کرتا ہوں تو نہ صرف بکثرت الحمد للہ پڑھتا ہوں بلکہ ساتھ ہی استغفار بھی کرتا ہوں۔143