تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 253 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 253

تاریخ احمدیت۔جلد 25 253 سال 1969ء آپ ۳ امئی ۱۸۹۸ء کو دھار یوال میں پیدا ہوئے۔آپ صاحب کشف و ر و یا بزرگ تھے۔آپ نے خواب میں دیکھا کہ بالمقابل مسجد میں اذان ہو رہی ہے۔پھر کسی نے نماز پڑھائی۔آنکھ کھلی تو صبح کی نماز کا وقت تھا آپ پھر سو گئے۔پھر دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔حجرہ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چار پائی پڑی ہے اور آپ حضور کے پاؤں دبا رہے ہیں۔حضور نے فرمایا عبدالرحیم میں تمہارے واسطے بڑی دور سے چل کر آیا ہوں۔پھر حضور نے نماز کمرہ کی چھت پر پڑھائی اور عبد الرحیم صاحب اکیلے مقتدی تھے۔اسکے بعد حضور علیہ السلام بیٹھ گئے اور حضور نے فرمایا کہ میں ایسا ہی سچا ہوں جیسے پہلے مامور بچے تھے۔چنانچہ آپ نے کچھ عرصہ بعد بیعت کر لی۔آپ نے اپنی ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: و جس خواب کا حضرت مغل صاحب ( حضرت میاں عبد العزیز مغل صاحب) نے ذکر کیا ہے وہ میں نے ۱۹۱۷ء میں اپنے گھر واقعہ امرتسر میں دیکھی تھی۔ان دنوں میں احمدیت کا اشد مخالف تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک شخص نے دائیں طرف سے مجھے ایک گھڑی دی ہے اور اس کا منشاء یہ معلوم الله 107 ہوتا ہے کہ میں اس کی مرمت کروں۔وہ کہتا ہے یہ آنحضرت ﷺ کی گھڑی ہے کیا اس کی مرمت ہو سکتی ہے۔؟ میں نے کہا جب آنحضرت ﷺ کی گھڑی ہے تو اس کی مرمت کیوں نہیں ہوسکتی۔چنانچہ جب میں نے اسے کھول کر دیکھا تو وہ ایک نہایت ہی قیمتی گھڑی تھی۔اس کا ہر پرزہ نہایت ہی شاندار تھا۔مین سپرنگ (Main Spring) بھی دو تھے۔آج تک میں نے دو مین سپرنگوں والی جیبی گھڑی نہیں دیکھی۔اس میں جو ہیرا لگا ہوا ہے وہ بھی بہت اعلیٰ ہے۔خیر خواب میں ہی میں نے اس کی مرمت کی۔جب مرمت کر چکا تو خواب میں زور سے آندھی آئی جس سے میں بیدار ہو گیا۔۱۹۲۰ء کے شروع میں میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گیا۔۱۹۲۲ء کے شروع میں کسی تقریب پر لاہور میں حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل کے مکان پر آنے کا اتفاق ہوا۔مغل صاحب اوپر سے ایک گھڑی لائے اور دائیں طرف سے مجھے دکھا کر فرمایا۔کیا آپ اس گھڑی کی مرمت کر سکتے ہیں؟ نیز فرمایا کہ آپ کو علم ہے کہ کس کی گھڑی ہے؟ میں نے کہا مجھے تو علم نہیں۔فرمایا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گھڑی ہے جو حضور کے وصال کے دوسرے سال حضرت ام المومنین نے مجھے لاہور میں ہمارے مکان پر عطافرمائی تھی۔میں نے جب اس گھڑی کو دیکھا تو میری حیرت کی انتہاء نہ رہی کیونکہ یہ وہی گھڑی تھی جس کی میں ۱۹۱۷ء میں خواب میں مرمت کر چکا تھا اور جس کے متعلق مجھے کہا گیا تھا کہ یہ