تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 183
تاریخ احمدیت۔جلد 25 183 سال 1969ء خدام الاحمدیہ کراچی اس مشین کو مکمل کرنے اور اسے خاطر خواہ طریق پر چالو ہونے کے قابل بنانے میں بڑی محنت اور تندہی سے دن رات کام کر رہے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مشین بھی جلسہ سے قبل تیار ہوگی تو اس پر انشاء اللہ العزیز نانبائیوں کی مدد کے بغیر ہی دو ہزار روٹیاں فی گھنٹہ تیار ہوسکیں گی۔مزید برآں آئندہ کے لئے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ایک تیسری مشین حاصل کرنے کی بھی منظوری مرحمت فرمائی ہے۔یہ مشین آجکل مکرم اعجاز احمد صاحب کی زیر نگرانی لندن میں تیار کرائی جارہی ہے (الفضل ۲۴ دسمبر ۱۹۲۹ء صفحہ ا سے معلوم ہوتا ہے کہ محمود احمد صاحب قمر ایڈووکیٹ فیصل آباد نے ایک مشین کی قیمت عطیہ کے طور پر دینے کی پیشکش فرمائی)۔محترم جناب افسر صاحب جلسہ سالانہ نے دوران گفتگو مزید بتایا کہ چونکہ امسال مشینوں کے ذریعہ روٹیاں تیار کرنے کا انتظام محض تجربہ کیا جارہا ہے اس لئے جلسہ سالانہ کے تینوں لنگر خانوں میں حسب سابق تنور بھی نصب کرائے گئے ہیں چنانچ لنگر خانہ نمبر میں جو جلسہ سالانہ کا مرکزی لنگر خانہ ہے گزشتہ سال کی طرح ۶۶ تنور اور چالیس چو لہے لگائے جاچکے ہیں۔یہ سب تنور اور چو لہے سوئی گیس سے چلیں گے اسی طرح لنگر خانہ دارالرحمت اور لنگر خانہ دار العلوم کو بھی ہر طرح درست اور تیار کر دیا گیا ہے اور ان میں حسب ضرورت اجناس وغیرہ پہنچادی گئی ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۲۲ دسمبر ۱۹۶۹ء کو ان مشینوں کا معاینہ فرمایا جس کی تفصیل الفضل کے خصوصی نامہ نگار کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے:۔161 حضور نماز عصر کے بعد ۴ بجے سہ پہر محترم افسر صاحب جلسہ سالانہ کی معیت میں قصر خلافت سے بذریعہ موٹر کار دارالضیافت میں تشریف لائے اور یہاں روٹیاں پکانے والی دونوں مشینوں کو ملاحظہ فرمایا۔ان میں سے چھوٹی مشین جس پر ایک وقت میں دو نانبائی کام کرتے ہیں ہر طرح مکمل ہو چکی ہے چنانچہ جب حضور دار الضیافت میں تشریف لائے تو یہ مشین چل رہی تھی اور فی منٹ بارہ روٹیوں کے حساب سے اس میں سے پکی پکائی روٹیاں از خود نکل رہی تھیں۔حضور نے مشین سے نکلنے والی روٹیوں میں سے بعض روٹیاں اٹھا کر انہیں ملاحظہ فرمایا نیز ایک روٹی کو تو ڑ کر اسے چکھا۔روٹی کی کوالٹی پر اطمینان کا اظہار فرمانے کے علاوہ حضور نے مشین اور اس کے عملے کی کارکردگی پر خوشنودی کا اظہار فرمایا اور انہیں بعض قیمتی ہدایات سے نوازا۔اس موقع پر حضور نے دوسری مشین بھی ملاحظہ فرمائی جوا بھی پورے طور پر مکمل نہیں ہوئی ہے اور