تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 819
تاریخ احمدیت۔جلد 24 797 سال 1968ء کچلتی اور کیا سانپ نسل عورت کی ایڑی پر نہیں کا شما؟ یا مسیح پھر کسی وقت آ کر سانپ کو عذاب سے بچانے کی خاطر ایک بار پھر سولی پر چڑھے گا؟ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ مسیح تو صرف بنی نوع انسان کیلئے نجی ہیں تو سوال یہ ہے کہ اس تمیز کی کیا وجہ ہے جبکہ سانپ بھی خدا کی مخلوق ہے اور وہ بھی ہمدردی ونجات کا مستحق ہے۔پھر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سزا ملنے سے قبل سانپ ” پیٹ کے بل نہیں چلتا تھا بلکہ اس کے پاؤں تھے؟ اگر تو واقعی پہلے پاؤں تھے تو اس کا ثبوت آپ کے ذمہ ہے۔اور اگر نہیں تھے بلکہ پہلے بھی سانپ پیٹ کے بل ہی چلتا تھا تو یہ سزا کیا ہوئی کہ تو پیٹ کے بل چلے گا درانحالیکہ وہ پہلے سے ہی پیٹ کے بل چلتا ہے؟ اور یہ کیا بات ہے کہ جب آپ تصاویر میں سانپ کو حوا کو گمراہ کرتے دکھاتے ہیں تو وہاں بھی سانپ کے پاؤں نہیں ہوتے حالانکہ ابھی اسے پیٹ کے بل چلنے کا عذاب نہیں ملا ہوتا ؟“ اس اشتہار کا شائع ہونا تھا کہ عیسائیوں کے کیمپ میں کھلبلی مچ گئی۔پادری صاحب چیخ چیخ کر کہنے لگے کہ یہ سوالات بے معنی ہیں اور ان کے جوابات دینا مفید نہیں۔آپ اس اشتہار کی طرف توجہ ہی نہ کریں۔مگر لوگ کب مطمئن ہونے والے تھے۔لوگوں نے یہی سوالات الگ الگ کا غذات پر لکھ کر پادری صاحب کے لیٹر بکس میں ڈالنے شروع کر دیئے اور پادری صاحب کی لاچاری لوگوں پر اور بھی واضح ہوگئی۔اس طرح محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے احباب جماعت اہل تنزانیہ نے کسر صلیب کا ایک تازہ نظارہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ایک دوروز بعد اسی فرقہ (S۔D۔A) کے ایک افریقن پادری سے ملاقات ہوئی تو جناب رفیق صاحب نے انہیں مذکورہ اشتہار دیا مگر انہوں نے لینے سے انکار کر دیا اور زمین پر پھینک دیا اور کہنے لگے کہ ایسے سوالات کا نجات سے کوئی تعلق نہیں۔پھر کہنے لگے کہ آپ نے ہمارے پروگرام میں خلل ڈالنے کے لئے یہ اشتہارات ہمارے خیمے میں تقسیم کئے۔مکرم رفیق صاحب نے کہا کہ ہم نے ہرگز ہرگز آپ کے خیمے یا آپ کی حدود میں اشتہارات تقسیم نہیں کئے بلکہ آپ کی حدود سے باہر تقسیم کئے ہیں اور لوگوں نے شوق سے لئے ہیں اور اس کے نتیجے میں کوئی فساد گڑ بڑ یا خلل واقع نہیں ہوا۔ہم نے تو آپ سے محض استفسارات کئے ہیں بس۔مجھے تعجب ہے کہ آپ محض اتنی سی بات پر ناراض ہو گئے ہیں۔کیا آپ کو یسوع کے بارہ میں یاد نہیں کہ یہودیوں سے مذہبی اختلاف کی وجہ سے اس نے ہیکل میں داخل ہو کر گڑ بڑ کی ، صرافوں کی نقدی بکھیر دی اور ان کے تختے الٹ دیئے؟ ( یوحنا ۱۳-۲/۱۶) ہم