تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 442
تاریخ احمدیت۔جلد 24 442 سال 1967ء ایک دوسرے سے محبت کرنا سکھایا ہے اور خدمت انسانی کرنا اپنا فرض قرار دیا ہے اور یہی چیزیں ایک اچھے شہری کی نشانی ہوتی ہیں۔مہمانوں کو بہترین ماحول میں لے جا کر صرف ما حضر ہی نہیں دیا بلکہ اسلامی معاشرہ کے مطابق بہترین کھانا کھلایا گیا۔قرآن مجید کے حکم کے مطابق شراب کی کلی ممانعت تھی۔گفتگو کے دوران بڑی مفید باتیں زیر بحث آئیں۔پھر علمی اور ورزشی مقابلہ جات میں انعامات حاصل کرنے والوں میں انعامات تقسیم کئے گئے ملائیشیا 86 مولوی بشارت احمد صاحب امروہی انچارج ملائیشیا مشن نے اس سال کے وسط میں راناؤ، منکفن بیفرٹ، لابوان ، سنڈا کن ، برہالہ وغیرہ مقامات کا دورہ کیا اور غیر از جماعت دوستوں اور غیر مسلم حضرات تک پیغام حق پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔سنڈا کن میں ایک ماہ کے لئے قرآن کریم کلاس کا اجراء کیا گیا۔ملازم پیشہ احباب بھی شریک ہوتے رہے۔وہ احباب جو قبل ازیں مطلقاً قرآن کریم نہ پڑھ سکتے تھے۔خدا کے فضل سے اس قلیل عرصہ میں اس قابل ہو گئے کہ قرآن کریم کے ابتدائی حصے پڑھ سکیں۔اس سال ۲۳ ا حباب نے صداقت کو قبول کیا۔آپ اپنی سہ ماہی تبلیغی رپورٹ بابت جولائی تا ستمبر ۱۹۶۷ء میں تحریر فرماتے ہیں۔سنڈا کن قیام کے دوران جماعت کے بعض عہدیداران کی معیت میں باسل مشن کے امریکی پادری صاحب سے ان کے آفس میں کئی گھنٹہ تک تفصیل سے گفتگو ہوئی۔اس کے بعد انہوں نے اس چرچ کے تحت سکول اور اس کی کلاسز کا معائنہ کرایا۔اتوار کے روز چرچ میں عبادت کے موقع پر آنے کی دعوت دی۔چنانچہ اس دعوت سے بھی فائدہ اٹھایا گیا۔اس موقع پر عبادت کروانے والے لوکل پادری اور انتظامیہ کمیٹی کے عہدیداران سے بھی ملاقات ہوئی اور پھر پادری صاحب کی قیام گاہ پر ایک بار پھر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔اسلامی تعلیمات، عقائد پر روشنی ڈالی گئی۔کیتھولک مشن کے انچارج پادری صاحب سے بھی ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور کئی گھنٹہ تک ان سے گفتگو ہوئی۔چرچ مشن آف انگلینڈ کے تحت سکول کے پادری ٹیچر ( آسٹریلین ) سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی لیکن انہوں نے اپنے لاٹ پادری کے احکامات سنا کر کہ مسلمانوں کو تبلیغ نہ کی جائے۔گفتگو سے انکار کرنا چاہا۔جس پر ہم نے یہ کہہ کر آپ ہمیں بے شک تبلیغ نہ کریں لیکن ہمیں تو تبلیغ کر لینے دیں۔اس بارہ میں تو کوئی