تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 411 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 411

تاریخ احمدیت۔جلد 24 411 سال 1967ء اوسولائین امیر جماعت احمد یہ رنگون کے پاس آئے وہ اچھے عہدے پر فائز رہ چکے تھے۔ایک کتاب طلب کی پھر کہنے لگے دو دے دو پھر چار آخر کہنے لگے اگر آٹھ لوں تو کوئی اعتراض ہے خواجہ صاحب نے فرمایا کہ چشم ما روشن دل ما شا دضرور لے سکتے ہیں پھر چار رسالے لے کر کہنے لگے پھر آ کر تکلیف دوں گا۔جرمنی اس سال جرمنی کے دو مشہور شہروں فرینکفورٹ اور ہمبرگ میں عید الفطر اور عیدالاضحیہ کی مبارک تقاریب احمد یہ مشنوں کے زیر اہتمام پورے جوش و خروش سے منائی گئیں۔جس کا پریس اور ٹیلیویژن میں خوب چرچا ہوا۔یہ تقاریب باالترتیب ۱۲ جنوری اور ۲۱ مارچ کو منائی گئیں۔فرینکفورٹ:۔عید الفطر کی تقریب سعید پر جماعت کے جرمن اور دیگر نومسلم افراد کے علاوہ پاکستان، ترکی، ایران اور دیگر اسلامی ممالک کے اڑھائی سو افراد نماز عید میں شامل ہوئے۔اجتماع کے بعد ٹیلیویژن اور پریس والوں نے مولوی فضل الہی صاحب انوری مبلغ فرینکفورٹ کا انٹرویولیا۔آپ نے انہیں دیگر امور کے علاوہ جماعت احمدیہ کی عالمگیر تبلیغی سرگرمیوں سے مطلع کیا۔اسی شام ٹیلیویژن پر نماز عید کے مختلف مناظر تین مختلف اوقات میں دکھائے گئے۔اور دوسرے دن فرینکفورٹ کے بااثر اخبار (ALLGEMEINE ZEITUNG) اور دوسرے مقامی اخبارات میں تصاویر کے ساتھ عید کی کارروائی شائع ہوئی۔عیدالاضحیہ کی تقریب پر ۲۲ مارچ کو مسلم اور غیر مسلم پچاس سے زائد اصحاب کو مشن کی طرف سے عشائیہ دیا گیا۔جس میں مسٹر محمود اسمعیل زوش نے تقریر کی۔جس میں عیدالاضحیہ کی غرض وغایت حج کا تاریخی پس منظر حج اور اس کے آداب کی تشریح اور قربانی کا فلسفہ تفصیل سے بیان کیا۔تقریر کے بعد میجک لینٹرن کے ذریعہ بیت اللہ ، حج اور دیگر مناظر اور مقامات مقدسہ کی تصاویر دکھائی گئیں۔نماز عید اور عشائیہ کا ذکر جن مقامی اخبارات میں شائع ہوا۔ان میں اخبار FRANKFURTER) (RUNDSCHAU خاص طور پر قابل ذکر ہے۔(اشاعت ۲۲ مارچ ۱۹۶۷ء) فرینکفورٹ سے تقریبا دوصد میل دور ایک جیل خانہ میں کسی طور سے اسلام کا پیغام پہنچا۔چنانچہ مکرم مولوی فضل الہی صاحب انوری سے بعض قیدیوں نے خط و کتابت شروع کی جس پر انہیں سلسلہ کا