تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 278
تاریخ احمدیت۔جلد 24 278 سال 1967ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابہ کرام کا انتقال مهدئ دوراں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جو جلیل القدر صحابہ اس سال اس عالم فانی سے رخصت ہو کر اپنے مولائے حقیقی سے جاملے، ان کا تذکرہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔حضرت ملک محمد عالم صاحب آف محمود آباد جہلم 1 ولادت: ۱۸۶۲ء اندازاً بیعت: ۱۹۰۰ ء وفات: 11 جنوری ۱۹۶۷ء 1 حضرت ملک محمد عالم خان صاحب ناڑہ ضلع اٹک کے معروف بزرگان حضرت بورے خان صاحب اور حضرت موسیٰ خان صاحب کی اولاد میں سے تھے جن کے مزارات اب بھی وہاں موجود ہیں۔آپ پہلی بار جلسہ سالانہ ۱۹۰۰ ء کے موقع پر قادیان تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دستِ مبارک پر شرف بیعت حاصل کیا۔چنانچہ خود فرماتے ہیں: میں پہلی دفعہ جب قادیان گیا۔تو میرے ساتھ میاں غلام حسن صاحب امام جماعت ، مستری کرم الہی صاحب سکنہ محمود آباد، مستری عبدالستار صاحب، میاں فتح دین صاحب جہلمی اور مولوی مہر دین صاحب گجراتی تھے۔بٹالہ سٹیشن پر اُتر کر پیدل قادیان گئے۔جلسہ کے ایام تھے۔شہر جہلم کے دو آدمی بھی تھے۔مسجد اقصیٰ (مسجد اقصیٰ جون ۱۸۷۶ء میں پایہ تکمیل کو پہنچی اس وقت یہ جامع مسجد کہلاتی تھی۔تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۱۲۶) اس وقت چھوٹی سی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دوران تقریر فرمایا کہ ان سکھ صاحبان سے (حضور نے اُن سکھ صاحبان کا نام لیا ) دریافت کرلو کہ میری پہلی زندگی کیسی تھی۔ان سکھ صاحبان کی داڑھیاں سفید تھیں۔ایک صاحب نے نظم پڑھی تو وہ ہے جس پہ ہے محمد کا سلام اے قادیاں والے مسجد مبارک میں بھی میں حضرت صاحب کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔وہاں نماز حضور کے ساتھ مل کر پڑھتے رہے۔نماز ان دنوں حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفة المسیح الاول پڑھاتے رہے۔(ان دنوں مسجد مبارک کے امام حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ہوا کرتے تھے۔) بیعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر کی۔باہر جب گئے تو پگڑیاں بھی پھینکی گئیں۔میں نے بھی پگڑی کو پکڑا۔خواجہ کمال دین صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب حضور کے پاس ہی رہتے تھے۔