تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 155
تاریخ احمدیت۔جلد 24 155 سال 1967ء اگر اس وقت عیسائیوں سے کہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔سفر یورپ میں اخبارات کے نمائندوں اور متعد د عیسائی مشنریوں سے باتیں ہوئی ہیں۔میں نے اُن سے کہا کہ بہت سی بظاہر انہونی باتیں جو وقوع پذیر ہو چکی ہیں۔انہیں ذکر کیا جائے تو تم کہتے ہو کہ ایسا واقعہ ہو چکنے کے بعد بیان کرتے ہو۔اور اگر کوئی واقعہ اس کے وقوع پذیر ہونے سے قبل بیان کروں تو کہاں یقین کرو گے ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عظیم الشان تباہیوں کی اطلاع دی ہے۔اب تم میں سے جو بچے گا وہ میری ان باتوں کا گواہ ہوگا۔جو میں نے آج بیان کی ہیں۔گو ساری دُنیا میں تمھیں لاکھ کی احمدی آبادی کچھ بھی نہیں۔مگر ہمارے قلوب کی تسلی کے لئے خدا تعالیٰ نے پیشگوئیاں کی ہوئی ہیں۔جو ضرور پوری ہوں گی۔اور ہماری کامیابی کا ثبوت یہ ہے کہ الہی سلسلے بتدریج ترقی کرتے رہتے ہیں۔اس کے بعد حضور نے خدا تعالیٰ کی بعض قدرتوں کے نظاروں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ احمدیت کی ترقی کے نظارے بھی ضرور پیدا ہوں گے۔ان وعدوں کو جلد سے جلد لانے کے لئے احمدیوں کی سی زندگی بسر کرو۔تم احمدی بچیوں کی زندگی احمدیوں کی سی ہونی چاہئے نہ کہ عیسائی عورتوں کی طرح۔اپنے والدین سے کہو کہ تمہاری اچھی طرح تربیت کریں۔خدا تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین اس تقریب کے اختتام پر حضور نے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی طرف سے پیش کردہ دوانعامات سنڈے سکول کے دو بچوں قدسیہ بانو اور نعیم احمد کو اپنے دست مبارک سے عطا فرمائے۔186 واپسی حضور اقدس کی روانگی پاکستان کا نظارہ لندن مشن کی تاریخ میں یادگار رہے گا۔صبح سے ہی لوگ جوق در جوق مشن ہاؤس کے وسیع و عریض لان میں جمع ہونے شروع ہو گئے تھے۔ہر دل مغموم اور اُداس تھا۔۲۰ را گست کو ۵ بجے شام مشن ہاؤس سے روانگی کا وقت مقرر تھا حضور اقدس ۴ بجے لان میں