تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 66 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 66

تاریخ احمدیت۔جلد 23 66 سال 1965ء لئے اپنی زندگیوں کو وقف کرنا چاہیئے اور جماعت کو چاہیئے کہ اپنے بچوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو ہر سال اس کام کے لئے تعلیم و تربیت دلوائیں۔تا کہ وہ اس بوجھ کو صحیح معنوں میں برداشت کرنے کے قابل ہو جائیں۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں میں پڑھا ہے کہ اسلام کا مستقبل نہایت شاندار ہے۔اور یہ ایسی بات ہے جو کام کرنے والوں کے لئے اس بات کی کافی ضمانت سمجھی جانی چاہیئے کہ نہ صرف ان کی زندگیاں بیکار نہ جائیں گی بلکہ چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح ہمیشہ چمکتی 36 رہیں گی۔اخبار بدر قادیان نے اس نئے ماہنامہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے حسب ذیل تبصرہ سپر د قلم کیا۔جو فیض احمد صاحب گجراتی کا تحریر کردہ تھا۔ضرورت تھی کہ دنیا کے چاروں کونوں میں پھیلے ہوئے جماعت احمدیہ کے تبلیغی مشنوں کی مساعی کو نشر کرنے کے لئے ایک نقیب ہوتا۔اور جماعت کے دلوں کو اس بیحد مبارک تحریک میں حصہ لینے کے لئے گرمانے والی کوئی آواز ہوتی۔جو مستقل اور متواتر طور پر اس آفاقی مہم کی اہمیت کو واضح کرتی۔سو الحمد للہ کہ تحریک جدید انجمن احمد یہ ربوہ نے بروقت اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ماہنامہ تحریک جدید کا اجراء کیا ہے۔یہ ماہنامہ دوحصوں پر مشتمل ہے۔ایک حصہ اردو میں ہے اور دوسرا انگریزی میں۔اس ابتدائی پرچے میں صرف تحریک جدید کے مختصر سے تعارف پر ہی اکتفا کیا گیا ہے اور ابتدائی طور پر یہی ضروری تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ تحریک جدید کا ایک مختصر مگر مؤثر پیغام بھی ہے جس میں جماعت کو مالی اور جانی قربانیاں اسلام کی دہلیز پر پیش کرنے کی تحریک فرمائی گئی ہے۔تحریک جدید کے ابتدائی دور کی کچھ جھلکیاں محترم مولانا عبدالرحمن صاحب انور نے پیش فرمائی ہیں۔ٹائٹل پیج پر حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے کامیاب دورہ افریقہ و یورپ کے دوران کی ایک فوٹو ہے۔جس میں آپ گھانا کے صدر مسٹر نکرومہ کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔۔۔ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ماہنامہ مولانا سیم سیفی جیسے تبلیغی میدان کے آزمودہ اور تجربہ کار مجاہد کی ادارت میں اہم خدمات سرانجام دے گا۔رسالہ کی قیمت محض برائے نام رکھی گئی ہے یعنی صرف ڈیڑھ روپیہ سالانہ۔نوٹ: بعض وجوہات کی بنا پر ا۱۹۹ ء سے دسمبر ۲۰۰۵ ء تک اس کی اشاعت محدود رہی۔جنوری ۲۰۰۶ء سے دوبارہ با قاعدہ اشاعت جاری ہے۔