تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 722
تاریخ احمدیت۔جلد 23 722 سال 1966ء کے احاطہ میں سبزہ اور درختوں کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔اور تعلیم و تدریس اور ریسرچ کی مناسبت سے ماحول کو پر سکون اور خوشگوار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔مندوبین نے کالج کی اس روایت کو خاص طور پر سراہا کہ اس میں گذشتہ اٹھارہ ، انیس سال سے جلسہ ہائے تقسیم اسناد کی کارروائی زبان اردو میں انجام پارہی ہے۔اس اعتبار سے اسے پاکستان بھر میں اولیت حاصل ہے۔صوبیدار عبدالمنان صاحب دہلوی کا ذکر خیر ۲۵ دسمبر ۱۹۲۶ء کو سید نا حضرت خلیفۃ امسح الثالث نے مکرم صو بیدار عبدالمنان صاحب افسر حفاظت کی دختر نیک اختر امۃ الرحیم صاحبہ کے نکاح کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: مکرم صو بیدار صاحب جو اس وقت میرے دائیں طرف ہیں۔ان کے جماعت پر بہت حقوق ہیں۔انہوں نے احمدیت اور مسلمانوں کی طویل عرصہ تک خدمت کی ہے۔۱۹۴۷ء کے فسادات کے موقع پر جب قادیان کے قریب واقع گاؤں سٹھیالی پر سکھوں نے حملہ کیا تو اس گاؤں کے مسلمانوں کی حفاظت کے لئے جو احمدی بھیجے گئے ان میں صوبیدار صاحب بھی شامل تھے۔سکھوں کے ساتھ لڑتے ہوئے ان کے سینہ کے دائیں جانب گولی لگی۔مگر اللہ تعالیٰ کو ان کی زندگی عزیز بھی اس لئے اس نے انہیں بچالیا۔جس وقت یہ سٹھیالی سے قادیان آئے تو ان کے سارے کپڑے خون سے سرخ ہوئے ہوئے تھے۔اس کے بعد ایک لمبے عرصہ تک حضرت مصلح موعود کی خدمت کرتے رہے اور اب تک خدمت میں مصروف ہیں۔دوست دعا فرما دیں کہ خدا تعالیٰ اس رشتہ کو بابرکت بنائے اور فریقین کو خوشحال اور پرسکون زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔45 بھارتی احمدیوں کی جماعتی مساعی خلافت ثالثہ کے عہد مبارک کی برکت سے ۱۹۶۶ء کا سال بھارتی احمدیوں کے لئے نشاۃ ثانیہ کا سال ثابت ہوا اور ان کی دینی ، قومی اور ملی مہمات گذشتہ سالوں کی نسبت بڑھ گئیں۔اور ان کا حلقہ ملک کے اعلیٰ سیاسی علمی اور تحقیقاتی اداروں تک وسیع ہو گیا۔اس سال لٹریچر کی اشاعت بھی پہلے سے زیادہ ہوئی اور صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے شمالی ہند کا وسیع سفر کیا اسی طرح مبلغین سلسلہ نے تبلیغی اور بعض مرکزی زعماء نے بھی مالی نقطہ نگاہ سے جنوبی ہند کے دورے کئے۔اب اس اجمال کی تفصیل دی جاتی ہے۔