تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 672 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 672

تاریخ احمدیت۔جلد 23 ڈی سی۔بنگلہ دیش۔گوجرانوالہ 672 سال 1966ء محترمہ قانتہ بشری صاحبہ بیگم محترم محمد صالح صاحب مرحوم سابق انجینئر پی۔آئی۔محترمہ خالدہ بشری صاحبہ بیگم ڈاکٹر آفتاب احمد صاحب اسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ صحت ے۔محترمہ مبارکہ بیگم صاحبہ بیگم چو ہدری فضل الہی صاحب ڈائر یکٹر مکمہ ٹیلیفون لا ہور حضرت میاں محمد یوسف خان صاحب ولادت: ۶ اپریل ۱۸۸۸ء بیعت: جولائی ۱۹۰۱ ء وفات: ۱۰ دسمبر ۱۹۶۶ء۔8 آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت میاں ہدایت اللہ صاحب (وفات ۲۳ فروری ۱۹۳۵ء) سینئر ٹیچر گورنمنٹ ہائی سکول گجرات کے صاحبزادے تھے۔گجرات میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم جہلم میں پائی۔آپ کی سرکاری ملازمت محکمہ بندوبست سے شروع ہوئی۔بعد ازاں لائلپور میں ڈپٹی ڈائر یکٹر زراعت کے دفتر میں خزانچی کا کام آپ کے سپر دہوا جہاں باوجود حسن کارکردگی کے آپ کو بہت تنگ کیا گیا۔آپ نے نمازوں میں نہایت گریہ وزاری سے دعائیں کیں کہ خداوند تو عزیز اور حکیم ہے۔مجھے بھی غلبہ اور حکمت عطا فرما۔آپ کی یہ دعائیں غیر معمولی طور پر قبول ہوئیں اور آپ کو شملہ میں ایک نہایت معقول ملازمت مل گئی۔اور آپ ایک ایسی آسامی پر لگائے گئے جہاں پہلے ایک انگریز افسر متعین تھا۔آپ حکومت پنجاب کے میڈیکل ڈیپارٹمنٹ میں سالہا سال تک سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز رہے اور پھر سول سپلائیز آفیسر مقرر ہوئے اور اسی عہدہ سے ریٹائر ڈ ہوئے۔آپ اُن خوش نصیبوں میں سے تھے جنہیں جہلم میں حضور کی زیارت کرنے اور حضور کی زبانِ مبارک سے مقدس کلمات سنے کی توفیق ملی۔آپ کو مقدمات گورداسپور کے دوران بھی حضور کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔آپ ۱۹۱۵ء میں لائل پور (فیصل آباد) کی انجمن احمدیہ کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔وہیں آپ نے وصیت کی۔آپ حضرت میر ناصر نواب صاحب کی انجمن احباب کے ممبر بھی تھے۔آپ کئی سال تک حضرت مصلح موعود کے پرائیویٹ سیکرٹری رہے۔ازاں بعد جماعت احمدیہ لاہور کے نائب امیر کی حیثیت سے خدمات بجالاتے رہے۔۱۹۵۲ء میں آپ کو حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔نہایت مخلص اور فدائی بزرگ تھے تواضع و انکسار آپ کے رگ وریشہ میں رچی ہوئی تھی۔ہر ایک کے