تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 670
تاریخ احمدیت۔جلد 23 670 سال 1966ء علاقائی نظام کے تحت جو کام بھی لکھتا نہایت مستعدی سے کرتے۔حضرت مصلح موعود کے ساتھ آپ کو خاص محبت تھی۔تمیں پینتیس سال کی بات ہے ایک مرتبہ اخبارات میں حضور کی وفات کی جھوٹی خبر شائع کر دی گئی۔مجھے تو اسکے جھوٹا ہونے کا اسی وقت علم ہو گیا لیکن بعض دُور کے دوستوں کے لئے وہ بے حد گھبراہٹ اور مصیبت کا موجب بنی۔محترم چوہدری صاحب نے وہ خبر پڑھی تو ایسے غمزدہ ہوئے کہ منٹگمری میں کسی سے بات کئے بغیر گاڑی پر سوار ہو کر اگلے دن صبح قادیان پہنچ گئے۔راستے میں کئی ایک احمدی ملے۔ان سے بھی کوئی بات نہ کی۔قادیان گاڑی سے اتر کر سیدھے میرے پاس تشریف لائے۔میں ان دنوں حضرت میر محمد الحق صاحب کے انتظام کے تحت محترم سید محمد اشرف صاحب کے چوبارے میں ٹھہرتا تھا۔اس مکان کے نچلے حصے میں مہمان خانہ کا سامان ہوتا تھا۔محترم چوہدری صاحب مجھے ملے اور معانقہ کیا تو رو پڑے میں نے خیال کیا کہ محبت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔تھوڑی دیر بعد میں نے کہا کہ اب حضرت خلیفتہ المسیح کی ملاقات کے لئے جانا ہے۔اس پر آپ سخت حیرت زدہ ہوئے اور پوچھنے لگے کیا حضور زندہ ہیں۔آپ کی حالت اس وقت دیکھنے والی تھی۔تب آپ کو معلوم ہوا کہ یہ خبر جھوٹے طور پر اخبارات میں شائع ہوئی تھی۔پھر آپ نے اپنے غم واندوہ کی کیفیت بتائی جو آپ پر اس عرصہ میں گزری۔آپ اگر چہ وکالت کا کام کرتے تھے لیکن آپ کی زیادہ توجہ دینی کاموں کی طرف رہتی تھی۔حکام میں آپ کا اثر ورسوخ تھا۔اسے آپ خدمت دین کے لئے ہی استعمال کرتے۔آپ کا نمونہ لوگوں پر بہت اثر انداز تھا۔عام لوگوں سے بھی بہت حسنِ سلوک فرماتے۔غرباء کی ہمیشہ مدد کرتے۔کسی کے ساتھ سختی سے پیش نہ آتے۔میں نے آپ کو کبھی غصہ میں نہ دیکھا۔طبیعت بہت حلیم اور بُردبار تھی۔غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے آپ میں بہت خوبیاں رکھی تھیں۔محترم جناب ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب امیر جماعت احمد یہ ساہیوال حضرت چوہدری محمد شریف صاحب کی گرانقدر خدمات دینیہ کا جامع تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔69 166 خاکسارا پریل ۱۹۴۸ء میں ساہیوال آیا۔اس وقت حضرت چوہدری محمد شریف صاحب مرحوم امیر جماعت ہائے احمد یہ ضلع ساہیوال تھے ( جو کہ اسوقت منٹگمری کہلا تا تھا اور ضلع اوکاڑہ اور ضلع پاکپتن بھی اس میں شامل تھے۔محترم چوہدری صاحب ڈسٹرکٹ بورڈ کے بھی ممبر تھے اور علاقہ کے بڑے زمینداروں میں شمار ہوتے تھے۔چک GD/66 ان کے خاندان کی ملکیت تھا۔