تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 527 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 527

تاریخ احمدیت۔جلد 23 527 سال 1966ء اللہ تعالیٰ جملہ احباب کے اخلاص واموال اور جذبہ قربانی میں برکت دے اور انہیں اس تحریک میں بیش از پیش حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین مرزا ناصر احمد خلیفہ اصبح الثالث شاہ فیصل کو برقی پیغام اور اس کا جواب 82 اس سال فرمانروائے سعودی عرب جلالة الملک شاہ فیصل بن عبدالعزیز سرکاری دورہ پر پاکستان تشریف لائے۔یہ دورہ جو پاک عرب دوستی کو مستحکم سے مستحکم تر بنانے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا تھا ۱۸ / اپریل سے ۲۴ اپریل ۱۹۶۶ء تک جاری رہا۔اس دوران آپ کراچی، راولپنڈی، لاہور اور پشاور تشریف لے گئے۔ہر جگہ آپ کا والہانہ استقبال ہوا۔جلالۃ الملک شاہ فیصل ابھی اپنے دورہ کے سلسلے میں پاکستان میں ہی تھے کہ مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مدیر الفرقان“ نے اسلامی ہجری سال کے پہلے دن یعنی یکم محرم ۱۳۸۶ ھ (۱/۲۳اپریل ۱۹۶۶ء) کو آپ کی خدمت میں یہ برقی پیغام بھیجا:۔كل عام وانتم بخیر (ترجمہ: آپ کے لئے یہ سارا سال خیر و برکت کا سال ہو۔) اس کے جواب میں جلالتہ الملک نے پاکستان سے روانگی سے پیشتر حسب ذیل تارمولا نا صاحب موصوف کے نام ارسال فرمایا:۔(ترجمه) کراچی ۲۴ را پریل آپ نے جن پاکیزہ جذبات اور اسلامی روح کا مظاہرہ کیا ہے اس پر ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔فیصل۔83 صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے سفر ڈنمارک کے لیے اجتماعی دعا صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ ڈنمارک کی پہلی مسجد نصرت جہاں کی بنیاد اے کے لیے ۲۵ را پریل ۱۹۶۶ء کو بعد نماز عصر ربوہ سے روانہ ہوئے اس موقعہ پر سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے قصر خلافت میں اجتماعی دعا کرائی اور اس سے قبل حسب ذیل مختصر خطاب فرمایا:۔آج مرزا مبارک احمد صاحب کو پن ہیگن (ڈنمارک) میں مسجد کی بنیاد رکھنے اور بعض دیگر ضروری کاموں کے لیے روانہ ہور ہے ہیں۔مسجد بنانے میں بہت سی روکیں تھیں جن میں سے بہت سی دور ہو چکی ہیں۔