تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 474
تاریخ احمدیت۔جلد 23 474 سال 1966ء خاتون کا جو بیرونِ پاکستان سے تشریف لائیں۔انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی خدمت میں تین انگوٹھیاں پیش کیں۔ایک انگوٹھی فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے اور دو انگوٹھیاں دوسرے دو اداروں کے لئے۔حضور نے ایک انگوٹھی ادارہ فاؤنڈیشن کو بھجوا دی۔اگر چہ اس انگوٹھی کی قیمت چالیس پچاس روپے تھی لیکن اس پر لفظ اللہ نہایت خوبصورت طور پر کندہ تھا۔مختلف زرگروں سے دریافت کیا گیا۔سب چالیس پچاس روپے قیمت بتاتے رہے۔حضور کی خدمت میں عرض کیا گیا۔حضور نے فرمایا۔چند دن اور انتظار کریں۔ماہ ڈیڑھ ماہ کے بعد حضور نے فرمایا آکشن کر دیں اور بتادیں کہ ایک نومسلمہ نے فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے یہ انگوٹھی بھجوائی ہے۔چنانچہ اس کے بعد جب اسے آکشن کیا تو ایک دوست نے۔۱۰۱ روپیہ میں اس انگوٹھی کو خرید کر قیمت فاؤنڈیشن کو ادا کر دی۔اپنے وعدوں کی ادائیگی میں بھی خواتین نے بہت مستعدی دکھائی ہے۔ایسے بھی کئی واقعات ہیں کہ مخلصین نے اپنے مرحوم بزرگوں اور عزیزوں کی طرف سے چندہ فضل عمر فاؤنڈیشن کی مبارک تحریک میں پیش کیا۔35 بیرون پاکستان وصولی کا جائزہ بیرون پاکستان کی جماعتوں کے لئے وصولی کی تاریخ ۳۰ ستمبر ۱۹۶۹ء تک مقرر کی گئی تھی۔جو نہی یہ تاریخ مقرر ہوئی بیرونی ممالک کے تمام مبلغین انچارج کو بذریعہ خطوط اطلاع بھجوائی گئی۔علاوہ از میں بعض بڑی بڑی رقوم کے وعدے پیش کرنے والے احباب کو الگ بھی خطوط لکھے گئے۔اخبارات کے ذریعہ بھی یاد دہانی کا سلسلہ جاری رہا۔استثنائی طور پر بیرونی ممالک کے بعض احباب کو بھی مزید وقت کی مہلت بھی دی گئی۔بھارت کی جماعتوں میں نظارت بیت المال قادیان اور اخبار بدر“ نے خصوصی طور پر خطوط اور مضامین اور فہرستیں شائع کر کے توجہ دلائی اور بفضل خدا معقول رقم وصول ہوئی ہے۔ماریشس کی جماعت اور مبلغ انچارج مکرم مولوی محمد اسمعیل منیر صاحب نے اس غرض کے لئے خاص مہم چلائی اس جماعت نے وعدہ سے زائد رقم پیش کر دی۔اسی طرح کویت کے احمدیوں نے بھی بڑی مستعدی دکھائی او راپنے وعدے کو سو فیصدی پورا کر دیا۔نجی کی جماعت کی کوشش بھی قابلِ قدر تھیں۔افریقن ممالک میں سے تنزانیہ اور کینیا کی وصولی امسال بہتر رہی۔رنگون نے بھی اپنا وعدہ