تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page iii of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page iii

پیش لفظ احباب جماعت کی خدمت میں تاریخ احمدیت جلد نمبر ۲۳ پیش کی جار ہی ہے۔یہ جلد سال ۱۹۶۵ء اور ۱۹۶۶ء کے حالات و واقعات پر مشتمل ہے۔۱۹۶۵ء کا سال جماعت احمدیہ کی تاریخ میں نہایت درجہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سال حضرت خلیفہ المسیح الثانی لمصلح الموعود اپنے۔مولائے حقیقی سے جاملے۔حضرت خلیفہ مسیح الثانی لمصلح الموعود کی ذات والا صفات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی يَتَزَوَّج ويو لدله “ کا حسین مظہر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاوں کا عظیم ثمر تھی۔پیشگوئی مصلح موعود کا ایک ایک لفظ اپنی تمام تر صداقتوں اور عظمتوں کے ساتھ آپ کے وجود باجود میں جلوہ گر رہا۔آپ اس دنیا کے لئے رحمت، قربت، فضل اور احسان کا نشان تھے۔آپ فتح و ظفر کی کلید اور مظفر و منصور تھے۔آپ کی تقاریر و تفاسیر سے کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہوا اور دین اسلام کا شرف تمام عالم پر آشکار ہوا حق اپنی تمام تر برکتوں کے ساتھ آگیا اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ گیا۔آپ کلمتہ اللہ تھے جسے خدائے ذوالجلال کی رحمت وغیوری نے اپنے کلمہ تمجید سے بھیجا تھا۔آپ عمانوایل اور بشیر تھے۔مقدس روح کے حامل اور ہر رجس سے پاک تھے۔آپ نور اللہ، مبارک ، صاحب فضل و شکوہ و عظمت و دولت تھے۔آپ سخت ذہین و فہیم تھے اور اس فہم و ذکاء کو الہام الہی کی رفاقت حاصل تھی۔آپ دل کے علیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر تھے۔آپ فرزند دلبند گرامی ارجمند، مظہر الاول والاخر ، مظہر الحق والعلاء تھے۔آپ کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب تھا كَانَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ آپ نور علی نور تھے جسے خداوند تعالیٰ نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا تھا۔آپ الہام الہی سے مشرف ہو کر جلد جلد خدا کے سایہ تلے بڑھے ، پھولے اور پھلے۔جسم و جاں کے ہزاروں مریض آپ کے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے شفایاب ہوئے اور قبروں میں دبے پڑے، موت کے پنجوں میں گرفتار لوگوں نے موت سے نجات پائی۔آپ اسیروں کے رستگار تھے اور افراد ہی نہیں اقوام نے بھی آپ کے دم قدم سے رستگاری کا فیض پایا۔آپ نے زمین کے کناروں تک شہرت پائی اور ایک عالم نے آپ سے برکت حاصل کی۔تب اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ۷، ۸ نومبر ۱۹۶۵ء