تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 698 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 698

تاریخ احمدیت۔جلد 22 698 سال 1964ء افغان وفد قادیان میں ۱۸ر جنوری کو افغانستان سے نوارکان پر مشتمل ایک سرکاری وفد مشرقی پنجاب کے کو آپریٹو سسٹم کے مطالعہ کے لئے لدھیانہ، جالندھر اور چندی گڑھ سے ہوتا ہوا قادیان پہنچا۔وفد کے لیڈر جناب عبدالکریم صاحب اسٹنٹ ڈائریکٹر نیشنل ٹریننگ رورل ڈویلپمنٹ نے صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب سے ملاقات کی اور اس بات پر اظہار مسرت کیا کہ انہیں ایک ایسے مقام کو دیکھنے کا موقعہ ملا ہے جہاں مسلمان آباد ہیں۔ممبران وفد کو جماعتی معلومات بہم پہنچانے کے علاوہ لٹریچر بھی پیش کیا گیا۔پاکستان کے سابق وزیر خارجہ کی ربوہ میں آمد ۱۹ جنوری ۱۹۶۴ء کو مغربی پاکستان ہائیکورٹ لاہور کے سابق چیف جسٹس اور پاکستان کے سابق وزیر خارجہ جناب منظور قادر صاحب ربوہ تشریف لائے۔آپ مرکز احمدیت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور تعلیم الاسلام کالج کی بزم اردو سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا’ آج میں نے آپ کے دفاتر دیکھے ہیں نیز بیرونی ممالک میں آپ کے تبلیغی مشنوں اور ان کی مساعی کے بارہ میں بہت سی معلومات حاصل کی ہیں۔میں اس بات سے بہت متاثر ہوا ہوں کہ آپ بیرونی ممالک میں اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں۔29 کلکتہ میں مسجد کا افتتاح کلکتہ میں اس سال ایک شاندار مسجد کی تعمیر پائیہ تکمیل کو پہنچی اور ۱۴فروری ۱۹۶۴ء کو مولوی بشیر احمد صاحب دہلوی امیر جماعت کلکتہ نے افتتاح کیا۔خدا کے اس گھر کے سب تعمیری اخراجات کلکتہ کے مخلص احمدیوں نے برداشت کئے۔جناب سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی کلکتہ خدا کے اس گھر کی تعمیر اور اس کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے قبل جو احمدی احباب کلکتہ میں موجود تھے وہ مکرم خواجہ غلام نبی صاحب مرحوم کی دکان میں نمازیں پڑھا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح اول کے عہد خلافت میں گواحباب کی تعداد میں ترقی ہوئی۔کالج سٹریٹ میں شیخ محمد امین ، فضل کریم و حاجی