تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 559
تاریخ احمدیت۔جلد 22 559 سال 1964ء چپہ پر قائم کر سکیں اور وہ محسن ترین وجود جو آج مظلوم ترین وجود بنا ہوا ہے اس کی شان اور عظمت کو دوبارہ دنیا میں قائم کرسکیں۔ایمان کہلاتا تو ہمارا ایمان ہے لیکن حقیقتاً خدا تعالیٰ کے پیدا کئے بغیر پیدا بھی نہیں ہوسکتا۔اس لئے آؤ ہم خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مہربانی کر کے ہم لوگوں کو جو درحقیقت اس کے فضلوں کے مستحق نہیں سخت کمزور ہیں اور اعمال میں سست اور غافل ہیں اپنا فضل نازل کر کے وہ ایمان بخشے وہ غیرت بخشے کہ ہمارے دلوں کی آگ سلگتی چلی جائے ، بھڑکتی چلی جائے یہاں تک کہ ہم پورے عزم اور ارادہ کے ساتھ دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑے ہو جائیں اور اس وقت تک آرام کا سانس نہ لیں جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آپ کی عظمت کو پھر دنیا میں قائم نہ کر دیں اور وہ ظلم اور بے انصافی جو ہمارے آقا سے ہوتی چلی آرہی ہے اس کا بدلہ نہ لے لیں۔مگر وہ بدلہ نہیں جو سروں کو تلوار سے کاٹتا ہے بلکہ وہ بدلہ جو دلوں کو محبت سے بھرتا ہے تاکہ دنیا میں خدا تعالیٰ کا نام پھر روشن ہو اور اللہ تعالیٰ کا جلال ایک دفعہ پھر ظاہر ہو جائے۔پس دعا کرو دل کے ساتھ ، خشیت کے ساتھ ، امیدوں کے ساتھ اور اپنے عجز کے اظہار اور کمزوری کے اعتراف کے ساتھ کیونکہ سچی دعا وہی ہوتی ہے جو ایک طرف اپنی کمزوری اور عجز کا اعتراف رکھتی ہے تو دوسری طرف خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے اس میں مایوسی نہیں ہوتی۔والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اس للہی اور مقدس اجتماع کے فاضل مقررین کے اسماء گرامی درج ذیل کئے جاتے ہیں:۔۲۶ دسمبر۔( اجلاس اول) ا۔مولانا ابوالعطاء صاحب ( عنوان سیرت حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم) ۲۔سوئس نومسلم مسٹر رفیق چانن ( حالات قبول اسلام ) ۳۔مسٹر محمد آرتھر صاحب (غانا میں جماعت احمدیہ ) 2 اجلاس دوم) ۴۔مرزا عبدالحق صاحب امیر علاقائی ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیسی جماعت پیدا کرنا چاہتے تھے ) ۵ - مولوی سمیع اللہ صاحب مبلغ بمبئی (وفات مسیح ناصری علیہ السلام)۔مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری ( نجات۔عیسائیت اور اسلام کی رُو سے ) 128