تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 519 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 519

تاریخ احمدیت۔جلد 22 519 سال 1964ء اجتماع کا اختتامی اجلاس جو مورخه ۱۵ نومبر کو صبح ۹ بجے شروع ہو کر مسلسل پونے دو بجے تک جاری رہا اثر و جذب کے لحاظ سے ایک خاص شان کا حامل تھا۔اس میں درس قرآن کریم کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فہم وادراک سے بالا مقام ، حضرت خلیفتہ المسیح الاول اور خلافت ثانیہ کا ظہور، پیشگوئی مصلح موعود، حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے کارنامے بلحاظ امام جماعت، بلحاظ اشاعت دین، بلحاظ افاضه فیوض روحانی ، بلحاظ افاضه علوم روحانی و خلافت ثانیہ کے موجودہ دور میں ہماری ذمہ داریاں وغیرہ موضوعات پر سلسلہ وار ایسی پُر اثر تقاریر ہوئیں کہ روحانی کیف و سرور لحظه بلحظہ بڑھتا ہی چلا گیا تا آنکه محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس انصار اللہ کے اختتامی خطاب نے اس روحانی کیف وسرور کو نقطہ عروج پر پہنچا دیا۔آپ نے ذات باری تعالیٰ کا عرفان عطا کرنے اور روحانی علوم سے مالا مال فرمانے سے متعلق سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احسانات اور کارناموں کو ایسے دل نشین انداز میں بیان فرمایا کہ احباب جھوم اٹھے۔مجلس خدام الاحمدیہ کی طرح مجلس انصار اللہ کے نئے صدر کا انتخاب بھی عمل میں آیا۔یہ انتخاب ۱۳ نومبر کی شب کو مجلس شوری کے اجلاس میں شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت احمدیہ کوئٹہ کی نگرانی میں ہوا۔مختلف مجالس کی طرف سے عہدہ صدارت کے لئے (حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کے نام موصول ہوئے تھے۔آراء شماری کے مطابق (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے حق میں ۲۳۶ ووٹ آئے۔حضرت مصلح موعود نے کثرت رائے کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو ہی اگلے دو سالوں کے لئے انصار اللہ کا صدر مقرر فرمایا۔جس کا اعلان شیخ محمد حنیف صاحب نے اجتماع کے اجلاس چہارم میں کیا۔100 108 مجلس خدام الاحمدیہ کے چھبیس سالہ دور پر ایک نظر حضرت مصلح موعود کے بے شمار احسانات میں سے ایک عظیم احسان احمدی نوجوانوں کی تنظیم ہے۔جس کے ابتدائی چھبیس سالہ دور پر ایک نظر ڈالنا ہی کافی ہے۔(حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے اپنے ہیں سالہ تجربات و مشاہدات کی روشنی میں ایک روح پرور مضمون لکھا۔جس میں اس حقیقت پر نہایت وجد آفریں انداز میں روشنی ڈالی۔یہ مضمون رسالہ