تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 425 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 425

تاریخ احمدیت۔جلد 22 (ترجمہ اردو ) 425 سال 1964ء پس قرآن کریم عیسی کے صلیب دئیے جانے کے قصے کو قطعی طور پر رڈ کرتا ہے۔ہاں اس بارے میں مسلمانوں میں بہت سی بے بنیاد روایات پائی جاتی ہیں۔جن میں مذکور ہے کہ عین آخری وقت خدا نے عیسی کے بدلے اس سے انتہائی مشابہت رکھنے والے ایک دوسرے شخص کو بھیج دیا ( بعض تفاصیل کے مطابق یہ شخص یہو دا تھا۔جسے بالآخر عیسی کی جگہ صلیب دے دی گئی۔تاہم ان میں سے کسی روایت کا قرآن کریم اور مستند احادیث میں ذرہ بھر بھی ثبوت نہیں ملتا اور اس سلسلہ قرآن کے کلاسیکی مفسرین نے جو قصے بیان کئے ہیں۔وہ ہر طرح سے رڈ کر دینے کے لائق ہیں۔ایک طرف عیسی کو صلیب دیے جانے کا جو تفصیلی نقشہ اناجیل میں کھینچا گیا ہے اور دوسری طرف قرآن کا یہ بیان کہ مسیح کو صلیب پر نہیں مارا گیا۔در حقیقت یہ قصے ان دو بیانات کو ” ہم آہنگ کرنے کی ابتر اور پریشان کوششوں کے علاوہ اور کسی امر کی طرف رہنمائی نہیں کرتے۔صلیب دئیے جانے کی اس حکایت کو قرآن کریم کے مختصر اور جامع جملہ وَلكِنْ شُبّه لَهُمْ میں کس خوبی سے بیان کر دیا گیا ہے جس کا ترجمہ میں نے یوں کیا ہے:۔بلکہ ان کو بظاہر یہی نظر آیا کہ ایسا ہو گیا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ مرور زمانہ سے مسیح کے زمانہ کے بہت عرصہ بعد کسی نہ کسی طرح یہ داستان تشکیل پاگئی ( عین ممکن ہے کہ یہ اس وقت کے متھرائی عقائد کے غالب اثر کا نتیجہ ہو ) کہ وہ اس طبعی گناہ کے کفارہ کے طور پر صلیب دیے گئے۔جس کے متعلق یہ ادعاء ہے کہ اس بوجھ تلے انسانیت دبی ہوئی ہے۔یہ روایت عیسی کے بعد میں آنے والے پیروؤں میں اتنی شدت سے رچ گئی کہ یہودی بھی جو حضرت عیسی کے دشمن تھے اسے تسلیم کرنے لگے۔گو تحقیر آمیز انداز ہی میں سہی اس زمانہ میں صلیب کی موت ایک نفرت انگیز سزائے موت تھی جو سب سے نچلے درجے کے مجرموں کے لئے مقر تھی میرے نزدیک قرآنی الفاظ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ کی طرف یہی ایک توضیح قابل قبول ہے۔اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ شبہ لی کا محاورہ خیـل لـى کے مترادف ہے ( یہ شے) میرے لئے ایک خیالی تصویر بن گئی" یعنی ” میرے ذہن میں دوسرے لفظوں میں ( یہ ) مجھے ایسا لگا۔چوتھا اقتباس (انگریزی تفسیر سوره آل عمران آیت ۵۵) Cf۔3:55, where God say to Jesus, "Verily, I shall cause thee