تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 375
تاریخ احمدیت۔جلد 22 375 سال 1963ء سابقہ British Honduras تھا کے اسلامک سنٹر کے ایک نمائندہ اسماعیل شہباز آئے ہوئے تھے انہیں شرف ملاقات بخشا۔شام کو پانچ بجے سے سات بجے تک مجلس عرفان میں رونق افروز ہوئے اور بعد ازاں امریکہ تشریف لے گئے۔اس پروگرام میں مغربی کینیڈا کی تین جماعتوں کیلگری، ایڈمنٹن اور سکاٹون کے افراد بھی شامل تھے۔اس کے لئے حضور دورہ امریکہ کے بعد ان شہروں کے دورہ کے لئے 4 نومبر ۱۹۸۷ء کو کیلگری پہنچے۔خطبہ جمعہ کیلگری میں ارشاد فرمایا اور اُسی شام ایڈمنٹن تشریف لائے۔ے نومبر کو مذکورہ بالا تینوں جماعتوں کی مجلس عاملہ کے خصوصی اجلاس کی صدارت فرمائی۔اس مجلس عاملہ میں سب سے اہم سوال جو حضور نے اُٹھائے وہ تبلیغ کی کمی، طریق تبلیغ ، رفتار ترقی اور داعیان الی اللہ کی تعداد کے متعلق تھے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ حضور کے دل میں تڑپ ہے ایک بے پناہ سیلاب ہے کہ کس طرح پیغام حق پہنچایا جائے اور کیوں احباب جماعت اس کی طرف کماحقہ توجہ نہیں دے رہے۔اس کے بعد مجلس عرفان میں تشریف فرما ہوئے۔ایک مقامی اخبار ایڈ منٹن جرنل کو انٹرویو دیا اور اگلے روز نیو یارک تشریف لے گئے۔اب ہم مختصراً قارئین کی خدمت میں جماعت احمدیہ کینیڈا کے بعض دیگر کوائف برائے ریکارڈ پیش کرتے ہیں تا آئندہ کے لئے محفوظ ہو جائیں۔کینیڈا کے نیشنل پریذیڈنٹ صاحبان (۱) مکرم سید طاہر احمد صاحب بخاری از اکتوبر ۱۹۶۷ء تا ۱۹۶۹ء (۲) مکرم خلیفہ عبدالعزیز صاحب از اکتوبر ۱۹۶۹ء تا جولائی ۱۹۸۱ء (۳) مکرم میجر شمیم احمد صاحب مرحوم از جولائی ۱۹۸۱ء تا اکتوبر ۱۹۸۲ء (۴) مکرم خلیفہ عبدالعزیز صاحب اکتوبر ۱۹۸۲ء میں مقرر ہوئے۔کینیڈا میں مساجد ومشن ہاؤسز اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے مندرجہ ذیل چھ مقامات پر جماعت احمدیہ کے مشن ہاؤسز موجود ہیں : (1) ٹورانٹو (۲) کیلگری (۳) ایڈمنٹن (۴) وینکوور (۵) سکاٹون (۶) مانٹریال یہ مشن ہاؤسز بطور مساجد کے استعمال ہو رہے ہیں لیکن ایسی عمارت جو صرف اس مقصد کے لئے