تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 1
تاریخ احمدیت۔جلد 22 1 سال 1963ء صلح تا فتح ۱۳۴۲هش/ جنوری تا دسمبر ۱۹۶۳ء حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو صدق جدید کا خراج تحسین مولا نا عبدالماجد صاحب دریا بادی نے اخبار ” صدق جدید (۱۱ جنوری ۱۹۶۳ء) میں کلمہ گو کا اعزاز کے زیر عنوان درج ذیل نوٹ سپر دا شاعت فرمایا:۔وو یاد ہوگا کہ مجلس اقوام کی جنرل اسمبلی کی کرسی صدارت سے آیات قرآنی (رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِى وَيَرْلِی اَمْرِی۔طه : ۲۷،۲۲) کی تلاوت اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار انہیں ظفر اللہ خاں نے کی تھی اور چند سال اُدھر جب مغربی پاکستان میں رات کے پچھلے پہر ریل کا ایک عظیم حادثہ پیش آیا تھا تو اس وقت بھی یہی ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ اپنے سیلون میں نماز تہجد ادا کرتے پائے گئے تھے۔ایک احمدی سائیکل سیاح کا ذکر پریس میں قریشی محمد حنیف صاحب قمر علوی احمدی سائیکل سیاح کی حیثیت سے دنیائے احمدیت میں معروف تھے اور چالیس سال سے دینی خدمات بجا لا رہے تھے۔اس سال برصغیر کے پریس میں بھی ان کا بار بار تذکرہ کیا گیا اور ان کے مذہبی جذ بہ کوسراہا گیا۔موضع کنڈ ور ضلع میر پور آزاد کشمیر کے باشندہ قریشی محمد حنیف قمر صاحب علوی مارچ ۱۹۱۹ء میں جناب مرزا محمد اشرف صاحب محاسب صدر انجمن احمدیہ ( ابن جناب مرز انشی جلال الدین صاحب بلانوی) کے ذریعہ قادیان آکر سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے۔۱۹۲۳ء سے شروع کر کے ۶ نومبر ۱۹۶۳ء تک قریباً ۴۰ سال میں بائیسکل پر انڈیا اور پاکستان اور آزاد کشمیر میں آپ ۳۳۶۰۰ میل تبلیغی سفر کر چکے ہیں۔ان کی عمر اب ۲۶ برس کی ہو چکی ہے۔قریباً ۴۰ ہزار شہر ودیہات میں قریباً ۴۰ ہزار کتب و رسائل تقسیم کر کے فضائل اسلام پر ہزار ہا لیکچر دے چکے ہیں۔وہ ایک طرف جگن ناتھ مندر پوری میں پہنچے۔پھر ضلع بالاسور کی بندرگاہ چاند بالی اور چاندی پور میں اترے اور بنگال کے ۲۴ اضلاع کے کناروں میں جا کر آسام کے علاقہ میں بھی گئے۔پنجاب کے