تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 79
تاریخ احمدیت ریڈیو پر مکالمہ 79 جلد 21 جناب مبارک احمد صاحب ساقی مبلغ سیرالیون کے قلم سے مکالمہ کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔سیرالیون میں اسلام کی روز افزوں ترقی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے دنوں وہاں ریڈیو کے ذمہ دار افسران نے خاص اسلام پر ایک دلچسپ مکالمہ نشر کرنے کا انتظام کیا جس میں مسلمانوں کے نمائندوں کے علاوہ بعض معروف عیسائیوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔اس مکالمے کے لئے حسب ذیل موضوع مقر ر کیا گیا: سیرالیون میں حصول آزادی کے بعد اسلام ملک کی معاشرتی، ثقافتی اور مذہبی ترقی کے سلسلہ میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔“ اس مکالمے میں اسلام کی نمائندگی جماعت احمدیہ کے میڈیکل مشنری مکرم ڈاکٹر شاہنواز خان صاحب اور شیخ ڈرامی صاحب لیبر آفیسر نے کی۔نیز عیسائیوں کی طرف سے فور بے کالج فری ٹاؤن کے چیپن ریورنڈ پیری سائر۔اور اسی کالج کے وائس پرنسپل ڈاکٹر پورٹر نے مکالمے میں حصہ لیا اور صدارات کے فرائض مسٹر کو لیئر بارایٹ لاء نے ادا فرمائے۔مکالمے کا خلاصہ درج ذیل ہے:۔صاحب صدر : سب سے پہلے صاحب صدر نے افتتاحی تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا ) زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ ہم اس ملک میں صرف اور صرف عیسائی مشنریوں کا ہی نام سنا کرتے تھے اور مذہبی لحاظ سے صرف انہی کی آواز ہمارے کانوں میں پڑا کرتی تھی۔لیکن اب حالات میں ایک تبدیلی آچکی ہے۔جماعت احمدیہ کی طرف سے ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغ اسلام کے متعدد مشنوں کا قیام عمل میں آچکا ہے یہ لوگ نہ صرف مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے سیرالیون کے باشندوں کی خدمت کر رہے ہیں بلکہ اب انہوں نے ہسپتال قائم کر کے معاشرتی فلاح کے اس میدان میں بھی خدمت بجالانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس وقت ہمارے درمیان جماعت احمدیہ کے میڈیکل مشتری ڈاکٹر شاہنواز خان بیٹھے ہیں آپ آج کے مکالمے کا آغاز کریں گے۔ڈاکٹر شاہنواز : زیر غور موضوع کے سلسلہ میں میں سب سے پہلے یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام ان معنوں میں ہی ایک مذہب نہیں ہے کہ یہ لوگوں کو بعض مخصوص عقائد قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے بلکہ یہ بنی نوع انسان کے سامنے ایک مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں ان کی پوری پوری رہنمائی کرتا ہے جس کی مدد سے وہ ایک کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ حصول آزادی کے بعد جب سیرالیون کے لوگ آزادانہ طور پر اسلامی تعلیمات کو سمجھنا اور ان پر غور کرنا شروع کریں گے تو